اس موقع پر وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا نے آئندہ ہفتے ضلع کرم کے دورے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل اور فوجی آپریشن سے متاثرین و بےگھر خاندانوں کی رجسٹریشن اور ان کے حل کے لیے حکومت زمینی حقائق کے مطابق عملی اقدامات کرے گی۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے پارلیمانی لیڈر، رکنِ قومی اسمبلی انجینئر حمید حسین طوری کی قیادت میں ضلع کرم کے مشران و عمائدین پر مشتمل ایک اہم جرگہ وزیرِاعلیٰ ہاؤس پشاور میں محمد سہیل آفریدی کے ساتھ منعقد ہوا۔ جرگے کی صدارت وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کی۔ جرگے میں مشران و عمائدین نے ضلع کرم کو درپیش عوامی، سماجی اور علاقائی امور پر تفصیلی اور سنجیدہ تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا نے آئندہ ہفتے ضلع کرم کے دورے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل اور فوجی آپریشن سے متاثرین و بےگھر خاندانوں کی رجسٹریشن اور ان کے حل کے لیے حکومت زمینی حقائق کے مطابق عملی اقدامات کرے گی۔ انہوں نے ٹل پارہ چنار روڈ کو ضلع کرم کی واحد شاہراہ صرف دو گھنٹوں کے لیے کھولنے کو افسوسناک امر قرار دیا اور واضح کیا کہ ضلع کرم پاکستان کا حصہ ہے، کوئی مقبوضہ علاقہ نہیں، اس لیے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت ان کا بنیادی حق ہے۔

وزیرِاعلیٰ نے سنٹرل کرم میں فوجی آپریشن سے متاثرہ خاندانوں کے دکھ درد کا اعتراف کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ متاثرین کے مسائل ایک ہفتے کے اندر ایمرجنسی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔ انہوں نے ضم شدہ اضلاع میں نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں اور یوتھ اینگیجمنٹ کے لیے 60 ملین روپے کی فراہمی کا اعلان بھی کیا۔جرگے میں اس امر پر زور دیا گیا کہ ضلع کرم میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر فسادات دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہیں جنہیں کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تشدد اور نفرت کے بجائے تعلیم، شعور اور قلم کو ہتھیار بنایا جائے گا تاکہ خطے میں پائیدار امن اور ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ آخر میں انجینئر حمید حسین طوری نے وزیرِاعلیٰ جناب محمد سہیل آفریدی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ حکومت کی سنجیدہ توجہ اور بروقت اقدامات سے ضلع کرم کے دیرینہ مسائل حل ہوں گے اور عوام کا اعتماد بحال ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ضلع کرم کے وزیر اعلی کرتے ہوئے کے لیے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن