ٹرمپ کا میکرون کے سن گلاسز پر طنز، عالمی رہنماؤں میں نئی بحث
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا مذاق اُڑایا، جنہوں نے ایک روز قبل ڈیووس میں اپنی تقریر کے دوران ہوا بازوں جیسے سن گلاسز پہن رکھے تھے۔
سوئٹزرلینڈ کے پہاڑی سیاحتی مقام ڈیووس میں ہونے والے سالانہ عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے کل صدر میکرون کو خوبصورت سن گلاسز کے ساتھ دیکھا۔ ’آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیں: فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے چشمے سوشل میڈیا پر وائرل، قیمت کتنی؟
صدر میکرون کے دفتر کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ سیاہ اور عکاس سن گلاسز اس لیے پہنے تھے کیونکہ ان کی آنکھ کی ایک رگ پھٹ گئی تھی، حالانکہ تقریر ہال کے اندر ہو رہی تھی۔
میکرون کی تقریر کے بعد سوشل میڈیا پر میمز کی بھرمار ہو گئی۔ کچھ صارفین نے انہیں خاص طور پر اس وقت وہ گرین لینڈ کے معاملے پر ٹرمپ پر تنقید کر رہے تھے، ’ٹاپ گن‘ اسٹائل اپنانے پر سراہا، جبکہ کچھ نے انہیں طنز کا نشانہ بھی بنایا۔
???? LMFAO! President Trump just mocked French President Emmanuel Macron for wearing sunglasses indoors at the WEF, the whole room BURST into laughter
"Macron, I watched him with those beautiful sunglasses.
— Eric Daugherty (@EricLDaugh) January 21, 2026
منگل کے روز اپنی تقریر میں فرانسیسی صدر نے یورپ کو دباؤ میں لانے کے لیے امریکا کی جانب سے نئے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیوں کو ’بنیادی طور پر ناقابلِ قبول‘ قرار دیا۔ ان مجوزہ محصولات میں فرانسیسی شراب اور شیمپین بھی شامل ہیں، جن کا مقصد یورپ کو گرین لینڈ خریدنے پر آمادہ کرنا بتایا گیا۔
میکرون نے اس موقع پر اعلان کیا کہ فرانس ’غنڈہ گردی‘ کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہوگا۔
مزید پڑھیں: گرین لینڈ پر امریکی دباؤ مسترد، یورپ غنڈہ گردی کے آگے نہیں جھکے گا، فرانسیسی صدر میکرون
بدھ کے روز صدر ٹرمپ نے یورپ اور اس کے رہنماؤں پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کو مسترد تو کیا، تاہم یہ واضح کر دیا کہ وہ اس آرکٹک جزیرے کی ملکیت چاہتے ہیں۔
نیٹو کے رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ کے حوالے سے ٹرمپ کی حکمتِ عملی اتحاد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب ڈنمارک اور گرین لینڈ کی قیادت نے 57 ہزار نفوس پر مشتمل اس تذویراتی جزیرے پرامریکی موجودگی بڑھانے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ٹاپ گن ٹیرف ڈنمارک سن گلاسز صدر ایمانوئل میکرون غنڈہ گردی گرین لینڈ یورپ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ٹاپ گن ٹیرف سن گلاسز صدر ایمانوئل میکرون غنڈہ گردی گرین لینڈ یورپ گرین لینڈ سن گلاسز کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔