ایران: حالیہ احتجاجی مظاہروں میں کتنے افراد ہلاک ہوئے؟ سرکاری اعدادوشمار جاری
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
ایران میں ملک گیر احتجاج کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے بعد حکومت نے بدھ کے روز پہلی مرتبہ ہلاکتوں کے سرکاری اعداد و شمار جاری کیے ہیں، جو بیرونِ ملک انسانی حقوق کے کارکنوں کے دعوؤں سے خاصے کم ہیں۔
ایرانی سرکاری ٹیلی وژن پر وزارتِ داخلہ اور فاؤنڈیشن آف مارٹرز اینڈ ویٹرنز افیئرز کے بیانات نشر کیے گئے، جو جنگوں میں ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں کو سہولیات فراہم کرنے والا سرکاری ادارہ ہے۔ ان بیانات کے مطابق احتجاجی مظاہروں کے دوران 3 ہزار 117 افراد ہلاک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے: ایران میں مظاہرے، ہلاکتوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی
سرکاری بیان میں مزید کہا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے 2 ہزار 427 افراد عام شہری اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکار تھے، تاہم باقی ہلاکتوں کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔
دوسری جانب امریکا میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی نے جمعرات کی صبح بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 4 ہزار 902 ہو چکی ہے، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: مظاہروں کی آڑ میں بیرونی مداخلت ناقابلِ قبول، ایرانی فوج اور آئینی کونسل کا دوٹوک مؤقف
انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق وہ ایران کے اندر موجود کارکنوں کے نیٹ ورک کے ذریعے تمام ہلاکتوں کی تصدیق کرتی ہے، اور ماضی میں ایران میں ہونے والے مظاہروں اور بدامنی کے واقعات پر اس کے اعداد و شمار درست ثابت ہوتے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معطل یا محدود کر رکھی ہے اور بین الاقوامی کالز بھی بند ہیں، جس کے باعث بیرونِ ملک سے ہلاکتوں کا درست اندازہ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ مقامی صحافیوں کی رپورٹنگ پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: مظاہروں کے دوران امریکا ایران کیخلاف فوجی اقدامات پر غور کررہا ہے، سی این این کا دعویٰ
سرکاری میڈیا بار بار مظاہرین کو ‘فسادی’ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ امریکا اور اسرائیل کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں، تاہم ان الزامات کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
یہ ہلاکتیں ایران میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ہونے والے کسی بھی احتجاج یا بدامنی سے کہیں زیادہ ہیں اور 1979 کے اسلامی انقلاب کے دوران پیدا ہونے والی افراتفری کی یاد دلاتی ہیں۔
اگرچہ گزشتہ چند دنوں سے ملک میں کوئی بڑا احتجاج رپورٹ نہیں ہوا، تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جیسے جیسے مزید معلومات سامنے آئیں گی، ہلاکتوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احتجاج ایران تہران مظاہرے ہلاکتیں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایران تہران مظاہرے ہلاکتیں ہلاکتوں کی ایران میں کے دوران
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔