ٹرمپ نے ایران پر حملہ کیوں نہ کیا۔؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: ٹرمپ بارہا کھلے عام کہتا رہا کہ اگر ایران نے سرنڈر نہ کیا تو حملہ ہوگا، یہاں تک کہ حالیہ کشیدگی میں یہ فضا بنائی گئی کہ امریکہ کسی بھی لمحے ایران پر حملہ کر دے گا۔ لیکن 15 جنوری 2026 کو صبح ہوتے ہی یہ ساری بڑھکیں ہوا ہو گئیں۔ یہ پیچھے ہٹنا کسی اخلاقی بیداری کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ خوف اور حقیقت پسندانہ حساب کتاب کا نتیجہ تھا۔ ایرانی عوام لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ انقلاب اسلامی کے ساتھ وفاداری کا اعلان ہوا۔ رہبر معظم ولی فقیہ امام سید علی خامنہ ای کے ساتھ تجدید بیعت نے دنیا کو واضح پیغام دے دیا کہ یہ قوم دباؤ سے نہیں ٹوٹتی۔ رپورٹ: سید شاہریز علی
برطانوی سامراج کے زوال کے بعد جس طاقت نے دنیا میں تسلط پسندانہ نظام کو سنبھالا وہ امریکہ ہے۔ چہرہ بدلا، نعرے بدلے، مگر اصل مقصد وہی رہا.
مگر ہر دور میں ایک حقیقت برقرار رہی کہ انقلاب اسلامی نہ جھکا، نہ ٹوٹا لیکن وہ سب صدور خاک میں مل کے کیڑے مکوڑوں اور سانپوں کی خوراک بن گئے۔ انقلاب اسلامی اس استعمار کے خلاف سب سے مضبوط اور مستقل مزاحمت کی علامت بن گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس پوری تاریخ میں امریکی استعمار کی سب سے بدصورت اور عریاں شکل بن کر سامنے آیا۔ اس نے وہ نقاب بھی اتار دیے جو اس سے پہلے کے امریکی صدور کسی حد تک اوڑھے رکھتے تھے۔ اس نے عالمی سیاست کو جوئے میں بدل دیا۔ دھمکی، بلیک میلنگ، فحش زبان اور حملے کی بڑھکیں اس کی خارجہ پالیسی کا خلاصہ بن گئیں۔ اس کا ماضی کاروباری قمار بازی، دیوالیہ پن اور اخلاقی اسکینڈلز سے بھرا ہوا ہے۔ جیفری ایپسٹین فائلز میں امریکی اشرافیہ کے جس سیاہ چہرے کی جھلک ملتی ہے، ٹرمپ کا نام بھی اسی دائرے میں گردش کرتا رہا۔ یہی ذہنیت اس کی سیاست میں بھی نظر آئی۔
ٹرمپ نے عالمی معاہدوں کو روند ڈالا، پیرس کلائمیٹ معاہدے سے نکل گیا، اقوام متحدہ کے فریم ورکس کو کمزور کیا۔ ایران کے ساتھ ہونے والے جے سی پی او اے معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کر دیا حالانکہ اس پر خود امریکہ کے دستخط تھے۔اس فیصلے نے دنیا کو یہ واضح پیغام دیا کہ امریکی وعدے قابل اعتماد نہیں بلکہ وقتی مفاد کے تابع ہوتے ہیں۔ امریکی استعمار کی یہ سوچ عراق اور لیبیا میں کھل کر سامنے آئی۔ عراق پر جھوٹے ہتھیاروں کے دعوے کر کے حملہ کیا گیا، ایک پورا ملک تباہ کر دیا گیا، لاکھوں جانیں گئیں۔ لیبیا کی ریاست کو ملبے میں بدل دیا گیا۔ وینزویلا میں منتخب حکومت کے صدر کو اغوا کر کے جھوٹے کیسز بنائے گئے۔ مقصد دنیا میں تیل کے سب سے زیادہ ذخائر رکھنے والے ملک پر قبضہ کرنا اور اب گرین لینڈ کو ہتھیانے کی باتیں اسی تسلط پسندانہ ذہنیت کا تسلسل ہیں۔ امریکہ آج بھی ملکوں کو قوم نہیں بلکہ زمین اور وسائل سمجھتا ہے۔
ایران کے اندر بھی یہی منصوبہ نافذ کرنے کی کوشش کی گئی۔ پابندیاں، معاشی جنگ، سوشل میڈیا آپریشنز، جھوٹے بیانیے پر مبنی فارسی چینلز کی بھر مار، فتنہ گروں کی پشت پناہی اور اسرائیلی تعاون۔ جلاؤ گھیراؤ، قتل و غارت اور افراتفری کو عوامی تحریک کا نام دینے کی کوشش کی گئی۔ اسی پورے عمل میں عالمی میڈیا کا کردار نہایت شرمناک اور خوفناک رہا۔ عالمی میڈیا نے غزہ اور دیگر مقامات پر جاری ظلم اور قتل عام پر یا تو مکمل خاموشی اختیار کی یا اسے جواز فراہم کیا، جبکہ ایران کے اندر بیرونی حمایت یافتہ ہنگاموں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ آگ لگانے والوں کو مظاہرین اور قاتلوں کو کارکن کہا گیا۔ موساد کے نیٹ ورکس، تخریب کاری اور خفیہ آپریشنز کو بے نقاب کرنے کے بجائے سارا زور اس بیانیے پر رہا کہ نظام کو کیسے غیر مستحکم دکھایا جائے۔ یہ وہی عالمی میڈیا ہے جو ظلم کے سامنے اندھا اور استعمار کے سامنے غلام بن چکا ہے۔
ٹرمپ بارہا کھلے عام کہتا رہا کہ اگر ایران نے سرنڈر نہ کیا تو حملہ ہوگا، یہاں تک کہ حالیہ کشیدگی میں یہ فضا بنائی گئی کہ امریکہ کسی بھی لمحے ایران پر حملہ کر دے گا۔ لیکن 15 جنوری 2026 کو صبح ہوتے ہی یہ ساری بڑھکیں ہوا ہو گئیں۔ یہ پیچھے ہٹنا کسی اخلاقی بیداری کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ خوف اور حقیقت پسندانہ حساب کتاب کا نتیجہ تھا۔ ایرانی عوام لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ انقلاب اسلامی کے ساتھ وفاداری کا اعلان ہوا۔ رہبر معظم ولی فقیہ امام سید علی خامنہ ای کے ساتھ تجدید بیعت نے دنیا کو واضح پیغام دے دیا کہ یہ قوم دباؤ سے نہیں ٹوٹتی۔ انقلاب اسلامی کی جدید دفاعی صلاحیتیں، اس کی میزائل طاقت، اور سب سے بڑھ کر عوامی اتحاد وہ حقیقت ہے جس نے امریکہ کو رکنے پر مجبور کیا۔ واشنگٹن جانتا تھا کہ ایران، وینزویلا، عراق یا لیبیا نہیں۔ یہاں حملے کا جواب محدود نہیں ہوگا بلکہ اس کے اثرات پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ اسی ادراک نے ٹرمپ کی قمار بازانہ سیاست کو عملی اقدام سے روک دیا۔
یہ لمحہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ امریکی استعمار بندوق، پابندی، میڈیا جھوٹ اور اخلاقی دیوالیہ پن کے ذریعے بہت کچھ تباہ کر سکتا ہے، مگر ہر قوم کو غلام نہیں بنا سکتا۔ جہاں عوام زندہ ہوں، قیادت واضح ہو اور نظریہ مضبوط ہو، وہاں سامراج کی طاقت بھی محض شور اور دھمکی بن کر رہ جاتی ہے۔ انقلاب اسلامی ایران نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ استقامت، وفاداری اور شعور وہ طاقت ہے جس کے سامنے استعمار بھی بے بس ہو جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی استعمار انقلاب اسلامی کا نتیجہ کے سامنے کے ساتھ نے دنیا دیا کہ
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔