Islam Times:
2026-07-24@01:03:42 GMT

ٹرمپ نے ایران پر حملہ کیوں نہ کیا۔؟

اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT

ٹرمپ نے ایران پر حملہ کیوں نہ کیا۔؟

اسلام ٹائمز: ٹرمپ بارہا کھلے عام کہتا رہا کہ اگر ایران نے سرنڈر نہ کیا تو حملہ ہوگا، یہاں تک کہ حالیہ کشیدگی میں یہ فضا بنائی گئی کہ امریکہ کسی بھی لمحے ایران پر حملہ کر دے گا۔ لیکن 15 جنوری 2026 کو صبح ہوتے ہی یہ ساری بڑھکیں ہوا ہو گئیں۔ یہ پیچھے ہٹنا کسی اخلاقی بیداری کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ خوف اور حقیقت پسندانہ حساب کتاب کا نتیجہ تھا۔ ایرانی عوام لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ انقلاب اسلامی کے ساتھ وفاداری کا اعلان ہوا۔ رہبر معظم ولی فقیہ امام سید علی خامنہ ای کے ساتھ تجدید بیعت نے دنیا کو واضح پیغام دے دیا کہ یہ قوم دباؤ سے نہیں ٹوٹتی۔ رپورٹ: سید شاہریز علی

برطانوی سامراج کے زوال کے بعد جس طاقت نے دنیا میں تسلط پسندانہ نظام کو سنبھالا وہ امریکہ ہے۔ چہرہ بدلا، نعرے بدلے، مگر اصل مقصد وہی رہا.

قبضہ، لوٹ مار اور تابعداری۔ جہاں وسائل ہوں وہاں امریکی مفاد جاگ اٹھتا ہے، اور جہاں کوئی ریاست انکار کرے وہاں جمہوریت، انسانی حقوق اور عالمی سلامتی کے نام پر تباہی مسلط کر دی جاتی ہے۔ امریکہ کی جدید تاریخ اسی سوچ کی کھلی گواہ ہے۔ یعنی جو ریاست امریکی استعمار کے سامنے سر اٹھائے گی، اسے گرانے اور ختم کرنے کے لیے ہر ہتھکنڈا استعمال کیا جائے گا۔ 1979 کا اسلامی انقلاب اسں استعماری منصوبے کی مکمل نفی تھا، اور یہی وہ لمحہ تھا جب ایران امریکی دشمنی کا مستقل ہدف بن گیا۔ اس کے بعد جمی کارٹر سے لے کر ریگن، کلنٹن، بش، اوباما اور ٹرمپ تک ہر امریکی صدر نے کسی نہ کسی شکل میں ایران کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ ایران عراق جنگ میں صدام کی سرپرستی، مسلسل پابندیاں، داخلی فتنہ انگیزی اور میڈیا وار اسی تسلسل کی کڑیاں ہیں۔

مگر ہر دور میں ایک حقیقت برقرار رہی کہ انقلاب اسلامی نہ جھکا، نہ ٹوٹا لیکن وہ سب صدور خاک میں مل کے کیڑے مکوڑوں اور سانپوں کی خوراک بن گئے۔ انقلاب اسلامی اس استعمار کے خلاف سب سے مضبوط اور مستقل مزاحمت کی علامت بن گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس پوری تاریخ میں امریکی استعمار کی سب سے بدصورت اور عریاں شکل بن کر سامنے آیا۔ اس نے وہ نقاب بھی اتار دیے جو اس سے پہلے کے امریکی صدور کسی حد تک اوڑھے رکھتے تھے۔ اس نے عالمی سیاست کو جوئے میں بدل دیا۔ دھمکی، بلیک میلنگ، فحش زبان اور حملے کی بڑھکیں اس کی خارجہ پالیسی کا خلاصہ بن گئیں۔ اس کا ماضی کاروباری قمار بازی، دیوالیہ پن اور اخلاقی اسکینڈلز سے بھرا ہوا ہے۔ جیفری ایپسٹین فائلز میں امریکی اشرافیہ کے جس سیاہ چہرے کی جھلک ملتی ہے، ٹرمپ کا نام بھی اسی دائرے میں گردش کرتا رہا۔ یہی ذہنیت اس کی سیاست میں بھی نظر آئی۔

ٹرمپ نے عالمی معاہدوں کو روند ڈالا، پیرس کلائمیٹ معاہدے سے نکل گیا، اقوام متحدہ کے فریم ورکس کو کمزور کیا۔ ایران کے ساتھ ہونے والے جے سی پی او اے معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کر دیا حالانکہ اس پر خود امریکہ کے دستخط تھے۔اس فیصلے نے دنیا کو یہ واضح پیغام دیا کہ امریکی وعدے قابل اعتماد نہیں بلکہ وقتی مفاد کے تابع ہوتے ہیں۔ امریکی استعمار کی یہ سوچ عراق اور لیبیا میں کھل کر سامنے آئی۔ عراق پر جھوٹے ہتھیاروں کے دعوے کر کے حملہ کیا گیا، ایک پورا ملک تباہ کر دیا گیا، لاکھوں جانیں گئیں۔ لیبیا کی ریاست کو ملبے میں بدل دیا گیا۔ وینزویلا میں منتخب حکومت کے صدر کو اغوا کر کے جھوٹے کیسز بنائے گئے۔ مقصد دنیا میں تیل کے سب سے زیادہ ذخائر رکھنے والے ملک پر قبضہ کرنا اور اب گرین لینڈ کو ہتھیانے کی باتیں اسی تسلط پسندانہ ذہنیت کا تسلسل ہیں۔ امریکہ آج بھی ملکوں کو قوم نہیں بلکہ زمین اور وسائل سمجھتا ہے۔

ایران کے اندر بھی یہی منصوبہ نافذ کرنے کی کوشش کی گئی۔ پابندیاں، معاشی جنگ، سوشل میڈیا آپریشنز، جھوٹے بیانیے پر مبنی فارسی چینلز کی بھر مار، فتنہ گروں کی پشت پناہی اور اسرائیلی تعاون۔ جلاؤ گھیراؤ، قتل و غارت اور افراتفری کو عوامی تحریک کا نام دینے کی کوشش کی گئی۔ اسی پورے عمل میں عالمی میڈیا کا کردار نہایت شرمناک اور خوفناک رہا۔ عالمی میڈیا نے غزہ اور دیگر مقامات پر جاری ظلم اور قتل عام  پر یا تو مکمل خاموشی اختیار کی یا اسے جواز فراہم کیا، جبکہ ایران کے اندر بیرونی حمایت یافتہ ہنگاموں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ آگ لگانے والوں کو مظاہرین اور قاتلوں کو کارکن کہا گیا۔ موساد کے نیٹ ورکس، تخریب کاری اور خفیہ آپریشنز کو بے نقاب کرنے کے بجائے سارا زور اس بیانیے پر رہا کہ نظام کو کیسے غیر مستحکم دکھایا جائے۔ یہ وہی عالمی میڈیا ہے جو ظلم کے سامنے اندھا اور استعمار کے سامنے غلام بن چکا ہے۔

ٹرمپ بارہا کھلے عام کہتا رہا کہ اگر ایران نے سرنڈر نہ کیا تو حملہ ہوگا، یہاں تک کہ حالیہ کشیدگی میں یہ فضا بنائی گئی کہ امریکہ کسی بھی لمحے ایران پر حملہ کر دے گا۔ لیکن 15 جنوری 2026 کو صبح ہوتے ہی یہ ساری بڑھکیں ہوا ہو گئیں۔ یہ پیچھے ہٹنا کسی اخلاقی بیداری کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ خوف اور حقیقت پسندانہ حساب کتاب کا نتیجہ تھا۔ ایرانی عوام لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ انقلاب اسلامی کے ساتھ وفاداری کا اعلان ہوا۔ رہبر معظم ولی فقیہ امام سید علی خامنہ ای کے ساتھ تجدید بیعت نے دنیا کو واضح پیغام دے دیا کہ یہ قوم دباؤ سے نہیں ٹوٹتی۔ انقلاب اسلامی کی جدید دفاعی صلاحیتیں، اس کی میزائل طاقت، اور سب سے بڑھ کر عوامی اتحاد وہ حقیقت ہے جس نے امریکہ کو رکنے پر مجبور کیا۔ واشنگٹن جانتا تھا کہ ایران، وینزویلا، عراق یا لیبیا نہیں۔ یہاں حملے کا جواب محدود نہیں ہوگا بلکہ اس کے اثرات پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ اسی ادراک نے ٹرمپ کی قمار بازانہ سیاست کو عملی اقدام سے روک دیا۔

یہ لمحہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ امریکی استعمار بندوق، پابندی، میڈیا جھوٹ اور اخلاقی دیوالیہ پن کے ذریعے بہت کچھ تباہ کر سکتا ہے، مگر ہر قوم کو غلام نہیں بنا سکتا۔ جہاں عوام زندہ ہوں، قیادت واضح ہو اور نظریہ مضبوط ہو، وہاں سامراج کی طاقت بھی محض شور اور دھمکی بن کر رہ جاتی ہے۔ انقلاب اسلامی ایران نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ استقامت، وفاداری اور شعور وہ طاقت ہے جس کے سامنے استعمار بھی بے بس ہو جاتا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکی استعمار انقلاب اسلامی کا نتیجہ کے سامنے کے ساتھ نے دنیا دیا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔

ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل