پشاور: پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور خیریت کے حوالے سے کوئی مصدقہ معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں، جو نہایت تشویشناک صورتحال ہے۔شوکت یوسفزئی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے آخری ملاقات کو تقریباً 50 دن گزر چکے ہیں جبکہ ملاقات کیلئے رات بھردھرنا بھی دیا گیا، تاہم اس کے باوجود رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں کسی سابق وزیراعظم کے ساتھ جیل میں ایسا رویہ اختیارنہیں کیا گیا ہم قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا حق مانگ رہے ہیں.

مگر ہائی کورٹ کی جانب سے نامزد کئے گئے چھ وکلاء کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی اپیلیں عدالتوں میں سماعت کے لئے مقرر نہیں کی جا رہیں، جبکہ پارٹی کی خواتین کو حراست میں لیا گیا ہے، جنہیں فوری رہا کیا جانا چاہیے۔پی ٹی آئی رہنما نے گل پلازا واقعے پرسندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب وہاں دکانیں تعمیر ہو رہی تھیں تو صوبائی حکومت کیا کر رہی تھی؟ یہ واقعہ پیپلز پارٹی کی 18 سالہ حکمرانی کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔انہوں نے دہشت گردی سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی، خیبر پختونخوا حکومت اورعوام خود دہشت گردی سے متاثررہے ہیں.ہمارے لوگ شہید ہوئے ہم دہشتگردوں کے حامی کیسے ہو سکتے ہیں۔شیخ وقاص اکرم نے واضح کیا کہ تحریک طالبان ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور رہے گی، جبکہ پارٹی سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے والے اکاؤنٹس کی پشت پناہی نہیں کرتی۔اس موقع پر شوکت یوسفزئی نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف زیادہ تر وقت بیرون ملک گزارتے ہیں، پنجاب میں 144 فیکٹریوں کی بندش سے ایک لاکھ افراد بے روزگار ہو چکے ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کا خمیازہ پورا ملک بھگت رہا ہے، جبکہ معیشت کی بہتری کے دعوے زمینی حقائق کے برعکس ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: شیخ وقاص اکرم پی ٹی آئی انہوں نے کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل