گرین پولیسنگ؛ مریم نواز نے پاکستان کی پہلی پیٹرولنگ الیکٹرک کار کا افتتاح کردیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
لاہور:
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پاکستان کی تاریخ کے پہلی گرین پولیسنگ یونٹ کا افتتاح کر دیا، جس کے تحت پیٹرولنگ کے لیے پہلی مرتبہ الیکٹرک گاڑی متعارف کرائی گئی ہے اور یہ اعزاز پنجاب کو حاصل ہوا ہے۔
افتتاح کے موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے گرین پولیسنگ یونٹ کی الیکٹرک پیٹرولنگ گاڑی کا معائنہ کیا اور خود الیکٹرک وہیکل ڈرائیو بھی کی۔ اس موقع پر مریم نواز کو گرین پولیسنگ یونٹ اور الیکٹرک وہیکل کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ لاہور میں جدید ترین بی وائی ڈی الیکٹرک گاڑی کے ذریعے ٹریفک اور پیٹرولنگ کے فرائض انجام دیے جائیں گے۔ یہ ماحول دوست الیکٹرک گاڑی فی چارج 410 کلومیٹر تک کی رینج رکھتی ہے۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ الیکٹرک گاڑی 30 سے 80 فیصد تک تقریباً 30 منٹ میں تیزی سے چارج ہو جاتی ہے جب کہ الیکٹرک وہیکل میں سرویلنس کے لیے جدید پی اے سسٹم، پولیس لائٹس، 360 ڈگری کیمرہ اور اسپیڈ ڈیٹیکشن آلات نصب ہیں۔ پیٹرولنگ پر مامور 103 گاڑیاں ماہانہ 28 ہزار لیٹر ایندھن استعمال کرتی ہیں جس پر 7.
وزیراعلیٰ پنجاب کو بتایا گیا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے سالانہ فی گاڑی تقریباً 4 ہزار 500 لیٹر ایندھن کی بچت ممکن ہوگی، آپریشنل لاگت میں نمایاں کمی آئے گی اور زیرو کاربن اخراج کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے گرین پولیسنگ یونٹ کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد بتدریج بڑھانے کی ہدایت کی اور گرین پولیسنگ یونٹ کو مرحلہ وار دیگر اضلاع میں شروع کرنے کے لیے اقدامات کا حکم دیا۔
انہوں نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال ایندھن کے اخراجات میں کمی اور زیرو کاربن اخراج کا باعث بنے گا جب کہ گرین پولیسنگ صاف ستھری فضا اور گڈ گورننس کے وژن کا عکاس ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گرین پولیسنگ یونٹ الیکٹرک گاڑی کہ الیکٹرک مریم نواز کے لیے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔