لاہور (نوائے وقت رپورٹ+نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز  نے پنجاب میں ٹیلی میڈیسن سسٹم متعارف کرانے  اورجھنگ  ڈی ایچ کیو ہسپتال میں کارڈیک سرجری شروع کرانے کا اعلان کیا ہے۔ نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ کی مارچ سے تعمیر شروع کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے جھنگ میں کیتھ لیب کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے عوام کو ہر قسم کے علاج کی سہولت گھر کی دہلیز پر دیں گے۔ جھنگ جیسے دورافتادہ شہر میں کیتھ لیب دیکھ کر خوشی ہوئی، میرا خواب پورا ہوا۔اب غریب امیر کا ایک ہی جیسا علاج ہو گا۔ میرے ذہن میں کوئی تفریق نہیں۔ غربت اور وسائل کی کمی کے شکار افراد کے لئے ہارٹ اٹیک کسی قیامت سے کم نہیں۔ مشکل کی گھڑی میں مریض کو شفٹ کرنے کے لئے گاڑیوں کے کرائے بھی ادا کرنے پڑتے ہیں۔ ہارٹ اٹیک ہونے پر 60منٹ کے گولڈن آور میں مریض کو ہسپتال شفٹ کرنے سے جان بچائی جا سکتی ہے۔ کبھی کبھی کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز سے سختی برتنا پڑتی ہے لیکن سختی ذمہ داری کے بوجھ پر کی جاتی ہے۔ ہم عوام کے دکھ درد میں ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔ پنجاب بھر میں 16 کیتھ لیب کا آغاز ہفتوں اور مہینوں میں کیا۔ ساہیوال، مری اور سرگودھا میں کارڈیالوجی کے انسٹی ٹیوٹ بنائے۔ مری میں علاج کے لئے دوردراز علاقوں کے علاوہ کے پی کے سے بھی سے لوگ آتے ہیں۔ ہم نے اپنے دروازے دوسرے صوبوں کے بہن بھائیوں کے لئے کھول رکھے ہیں۔ جب بھی نیا ہسپتال ڈیزائن کرتے ہیں، دوسرے صوبوں کے مریضوں کی ضرورتوں کو بھی مد نظر رکھتے ہیں۔ لاہور میں 100بیڈ کا پہلا سرکاری کینسر ہسپتال پنجاب کے علاوہ دوسر ے صوبوں کے مریضوں کی ضرورتوں کو بھی مد نظر رکھ کر بنایا جا رہا ہے۔ جھنگ میں کیتھ لیب کوباقاعدہ افتتاح سے پہلے ہی فنکشنل کر دیا تا کہ مریضوں کو پریشانی نہ ہوں۔ جھنگ میں چند دنوں میں 30 انجیو گرافی اور پلاسٹی پروسیجر ہو چکے ہیں۔ جھنگ کیتھ لیب کی فارمیسی میں درکار ضروری اشیاء اور ادویات کے انبار لگے ہیں۔ جھنگ میں الیکٹرک بس کو عوام نے بہت پذیرائی دی، ہزاروں افراد روزانہ سفر کرتے ہیں۔ پہلے واسا چند شہروں تک تھا اب جھنگ سمیت درجنوں شہروں میں موجود ہے۔ پنجاب بھر میں گلی محلے اور گاؤں صاف کررہے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہاکہ جھنگ کے پاس صفائی اور نکاسی آب کے لئے اپنی مشینری موجود ہے، جھنگ کیمرہ مانیٹرنگ سیف سٹی بن چکا ہے۔ جھنگ میں دیہی اور نیم شہری علاقوں میں بیوٹیفکیشن کے چار پراجیکٹ جلد مکمل کرائیں گے۔ 350 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر ومرمت ہو چکی ہے، چھ ماہ میں جھنگ ترقی یافتہ شہر کا منظر کا پیش کرے گا۔ انہوں نے کہا پنجاب بھر میں 7 لاکھ مریضوں کو انسولین اور دیگر مفت ادویات پہنچا چکے ہیں۔ مریضوں کے لئے ہوم ڈیلیوری میڈیسن اور بھی بڑھائیں گے۔ ڈائیلسز کارڈ کے ذریعے ہر مریض 10لاکھ تک علاج کراسکتا ہے۔ پنجاب کے عوام کو 100ارب روپے کی فری ادویات مہیا کر رہے ہیں۔ مریم نواز شریف نے کہا کہ آرگن ٹرانسپلانٹ مہنگا علاج ہے۔ عوام کو ٹرانسپلانٹ کارڈ بھی مہیا کررہے ہیں۔ سی ایم بننے پر کارڈیک سرجری کے لئے 15ہزار بچوں کی ویٹنگ لسٹ کا سن کر افسوس ہوا۔ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے 10ہزار بچے کارڈیک سرجری کے صحت یاب ہو چکے ہیں۔ ان میں کے پی کے، سندھ، آزاد کشمیر کے بچے شامل ہیں۔والدین اپنے بچوں کو بہتر علاج کے لئے دوسروں صوبوں سے پنجاب لاتے ہیں۔ مریضوں کو فوری علاج کے لئے منتقل کرنی ایئر ایمبولینس شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ فالج کے مریضوں کو سرکاری ہسپتالوں میں لاکھوں روپے کا ٹی این کے انجکشن فری لگے گا۔ مراکز صحت کو سٹیٹ آف دی آرٹ کلینک میں بدلنے سے مریضوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ ٹیلی میڈیسن سسٹم کے تحت ڈاکٹر فون کی سکرین پر موجود ہو گا۔  نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ میں چلڈرن ہسپتال، کارڈیالوجی، بلڈ ڈیزیز، ہڈیوں کے پیچیدہ امراض اور جلنے والے مریضوں کا بھی علاج ہو گا۔ کینسر کے علاج کے لئے چین سے نئی مشین اور ٹیکنالوجی لائے، ایک گھٹنے میں مریض کینسر فری ہوجاتا ہے۔ کوابلیشن مشین میں کینسر  کے علاج کے لئے پروب آلہ 16 لاکھ روپے کا آتا ہے۔ محکمہ ہیلتھ کو 6 ارب روپے دے چکے ہیں۔ پنجاب ٹیکنالوجی اورگڈ گورننس ریکارڈ قائم کر رہا ہے۔ پنجاب ایسی ماں کے مانند ہے جو خود جا کر تکلیف کاعلاج کرتی ہے۔ کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹر اب گھر گھر جاکر لوگوں کا علاج کریں گے اور چھ ماہ میں مکمل ہیلتھ پروفائل بنائیں گے۔ کے پی کے میں دل کے پیدائشی مریض بچے کے والد نے علاج کے لئے ایپلیں کیں، کسی نے مدد نہیں کی۔ کمسن ہارٹ پیشنٹ کے والد نے کہا کاش ہماری وزیراعلیٰ مریم نواز ہوتیں۔ میں سمجھتی ہوں جو مریض کے علاج میں غفلت کرتے ہیں انہیں حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دریائے فرات کے کنارے کتا پیاسا مر جائے تو حضرت عمر ذمہ دار ہیں تو سی ایم کیسے ذمہ دار نہیں ہو سکتا ہے۔ کیتھ لیب پراجیکٹ کی تکمیل پر صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر سمیت پوری ٹیم کو مبارکباد دیتی ہوں۔ مریم نواز نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال جھنگ میں کیتھ لیب کا افتتاح کردیا ہے۔جھنگ میں امراض دل کے علاج کے لئے جدید ترین کیتھ لیب بن گئی۔ڈسٹرکٹ میں ہارٹ اٹیک کا بروقت اور معیاری علاج ممکن ہوگیا۔ مریم نواز نے ڈی ایچ کیو ہسپتال جھنگ میں نئی کیتھ لیب کا دورہ کیا۔ پری۔ پوسٹ پروسیجر وارڈ، انجیو گرافی وارڈ کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کنٹرول روم سے کیتھ لیب میں جاری پروسیجر کا مشاہدہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے فارمیسی میں ادویات انجیکشن کا معائنہ بھی کیا۔ امراضِ قلب کے مریضوں کی تیمارداری اور جلد صحت یابی کیلئے دعا بھی کی۔وزیراعلی مریم نواز شریف نے جھنگ اور مضافات کے ممتاز سیال، عصمت اللہ، صالحہ اور ساجدہ سے بات چیت کی۔ مریضوں نے وزیراعلی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوچ نہیں سکتے تھے کہ جھنگ میں بھی ہارٹ اٹیک کا علاج ممکن ہو گا۔اب لاہور یا ملتان نہیں جانا پڑے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: مریم نواز شریف نے میں کیتھ لیب علاج کے لئے کے مریضوں مریضوں کی مریضوں کو ہارٹ اٹیک چکے ہیں عوام کو کے علاج کہا کہ

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • پنجاب میں عید پر صفائی آپریشن مثالی رہا، ڈرونز اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی، مریم اورنگزیب