صدرِ مملکت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 23 جنوری کو طلب کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)صدرِ مملکت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جمعہ 23 جنوری 2026 کو صبح 11 بجے طلب کر لیا ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی سمری وزارتِ پارلیمانی امور کی جانب سے بھجوائی گئی تھی، جس کی منظوری صدرِ مملکت نے دے دی۔
ذرائع کے مطابق مشترکہ اجلاس میں 20 سے زائد اہم بلوں پر قانون سازی کی جائے گی، جن میں مختلف قومی اور انتظامی نوعیت کے مسوداتِ قانون شامل ہیں۔
وزارتِ قانون اور وزارتِ پارلیمانی امور نے اجلاس کے انعقاد کے لیے تمام انتظامی اور پارلیمانی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ اجلاس میں کورم پورا رکھنے کے لیے وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل کو خصوصی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مشترکہ اجلاس میں قانون سازی کے عمل کو مؤثر اور بروقت مکمل کرنے پر توجہ دی جائے گی، جبکہ تمام متعلقہ وزارتوں اور پارلیمانی ارکان کو اجلاس میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مشترکہ اجلاس اجلاس میں
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔