پشاور:

پشاور میں موسم ابر آلود ہوگیا ہے جبکہ شہر اور گرد و نواح میں گہرے بادلوں سے بارش شروع ہوگئی، جس کے باعث موسم مزید سرد ہوگیا ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں ہلکی بارش اور برفباری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، جبکہ میدانی علاقوں میں بارش اور پہاڑی و بالائی علاقوں میں 23 جنوری تک برفباری کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق چترال بالائی و زیریں، دیر بالائی و زیریں، باجوڑ، ملاکنڈ، سوات اور بونیر میں اکثر مقامات پر بارش جبکہ پہاڑوں پر برفباری ہو سکتی ہے۔ اسی طرح شانگلہ، کوہستان بالائی و زیریں، کولئی پالس، بٹگرام، تورغر، مانسہرہ اور ایبٹ آباد میں بھی بارش اور بلند پہاڑوں پر برفباری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

ہری پور، مہمند، اورکزئی، خیبر، کرم، پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، مردان اور صوابی میں بارش جبکہ پہاڑی علاقوں میں برفباری ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کوہاٹ، ہنگو، کرک، لکی مروت، بنوں، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع میں بھی وقفے وقفے سے بارش اور اونچے پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کی وارننگ

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ تیز بارش اور شدید برفباری کے باعث ناران، کاغان، دیر، سوات، کالام، چترال، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، شانگلہ اور گلیات میں سڑکوں کے بند ہونے اور پھسلن کے سبب ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ شدید بارش اور برفباری کے باعث ناران، کاغان، دیر، سوات، کالام، چترال، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد اور شانگلہ کے مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ بھی موجود ہے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کا خطرہ ہے۔

محکمہ موسمیات نے سیاحوں اور مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ خراب موسمی صورتحال کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات علاقوں میں برفباری کا بارش اور

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن