سوئٹزرلینڈ: ہوا سے چلنے والی برقی توانائی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
سوئٹزرلینڈ: ہوا سے چلنے والی برقی توانائی WhatsAppFacebookTwitter 0 22 January, 2026 سب نیوز
سوئٹزرلینڈ کے شمال مغربی حصے میں واقع، مونٹ-کروسن میں سوئٹزرلینڈ کا سب سے بڑا وِنڈ فارم ہے، جس میں 2010 اور 2016 کے درمیان بنائے گئے سولہ وِنڈ ٹربینز ہیں اور کل 37.2 میگاواٹ کی برقی توانائی کی پیداوار ہے۔
برقی توانائی کی پیداوار ہوا کی صورتحال کے ساتھ مختلف ہوتی ہے؛ مثال کے طور پر، 29 دسمبر 2025 کو، اس سائٹ نے 7,582 گھروں کو برقی توانائی فراہم کی۔ ????️
سوئٹزرلینڈ کا پہلا وِنڈ پاور پلانٹ 1986 میں شروع کیا گیا تھا۔ 2020 میں، ملک میں تقریباً چالیس وِنڈ ٹربینز تھے، جو کہ تقریباً 140 گیگاواٹ-ہور (GWh) برقی توانائی پیدا کرتے تھے۔
سوئٹزرلینڈ میں وِنڈ پاور کی دو تہائی پیداوار سردیوں میں ہوتی ہے، جب توانائی کی ڈیمانڈ سب سے زیادہ ہوتی ہے، جس سے یہ ہائیڈروپاور اور سولر انرجی کے لیے ایک مضبوط تعاون ہے، کیونکہ ان کی پیداوار گرمیوں میں زیادہ ہوتی ہے۔
آپ کہاں رہتے ہیں، کیا وہاں کوئی وِنڈ ٹربینز ہیں؟
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآسٹریلیا اور فلپائن کا سفارتی تعاون مضبوط بنانے کا اعلان قطبِ شمالی میں طاقت کا نیا کھیل گُل پلازہ: آتشزدگی اور اجتماعی بےحسی سوئٹزرلینڈ میں “گرل ڈنر” ٹرینڈ، سرد کھانے کی مقبولیت میں اضافہ عظیم سبز دیوار: کس طرح لیکویڈ نیچرل کلے پاکستان کو خشک ہوتی دنیا کے خلاف لڑنے میں مدد دے سکتا ہے کّچے گّھڑے یورپ نے امریکہ کے سامنے فوجیں اتار دیں، گرین لینڈ بحران: مغرب کے دوہرے معیار کا امتحانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: برقی توانائی ہوتی ہے
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔