حکومت ساڑھے 3 سال سے عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرانے کیلئے متحرک، رپورٹ پیش
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست سے متعلق پی ٹی اے کی رپورٹ پیش کردی گئی۔رپورٹ کے مطابق عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرانے کے لیےحکومت کی جانب سے ساڑھے 3 سال سےکوششیں کی جارہی ہیں جس کے تحت 21 اگست 2022 کو پی ٹی اے نے عمران خان کا اکاؤنٹ بند کرنے کیلئے ایکس کو لکھا جب کہ توشہ خانہ، سائفر اور عدت کیس میں سزاؤں کاحوالہ دے کر 18 اپریل 2024 کودرخواست لکھی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 27 نومبر 2025 کو عمران خان کی 47 ٹوٹس بلاک کرنےکیلئے ایکس کو خط لکھا گیا،ساڑھے 3 سال میں 3 مرتبہ پی ٹی اے نے خط لکھا لیکن ایکس نے درخواست مسترد کردی جب کہ 27 نومبر 2025 کی 47 ٹوئٹس بلاک کی درخواست میں سے ایکس نے ایک ٹوئٹ بلاک کی ۔رپورٹ کے مطابق پی ٹی اے نے سوشل میڈیا کمپنیز کو پاکستان میں اتھارٹی کے ساتھ رجسٹر کرنے کا کہا لیکن سوشل کمپنیز نا رجسٹرڈ ہوئیں اور نا پاکستان میں کوئی فوکل پرسن مقرر کیا۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اپنے ممالک میں رجسٹرڈ سوشل میڈیا کمپنیز دوسرے ممالک کے قوانین کی خود کوپابند نہیں سمجھتیں، سوشل میڈیا کمپنیز دوسرےممالک کی شکایات بھی اپنےقوانین کے مطابق دیکھتی ہیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اکاؤنٹ بند پی ٹی اے
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔