محمود آباد بدفعلی کیس: مرکزی ملزم عمران کا خطرناک مجرمانہ ریکارڈ سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) محمود آباد میں 100 سے زائد بچوں کو ہوس کا نشانہ بنانے کے سنگین مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے مرکزی ملزم عمران کی گرفتاری کے بعد تفتیش کا دائرہ پنجاب تک وسیع کر دیا ہے جہاں ملزم کے خلاف سنگین جرائم کے متعدد مقدمات کا انکشاف ہوا ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزم عمران کا تعلق پنجاب سے ہے اور وہ ایک عادی مجرم ہے۔ ملتان اور اس کے گرد و نواح کے اضلاع سے حاصل کردہ ریکارڈ کے مطابق ملزم کے خلاف 2018ء سے 2023ء کے دوران مختلف تھانوں میں 8 مقدمات درج پائے گئے ہیں۔ ان مقدمات میں بچوں کے ساتھ بدفعلی‘ اغوا اور اقدامِ قتل جیسی دفعات شامل ہیں۔ پولیس ریکارڈ سے ثابت ہوا ہے کہ ملزم عرصہ دراز سے اس نوعیت کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے اور قانون سے بچنے کے لیے شہر بدلتا رہا ہے۔ کیس میں سب سے بڑی کامیابی ملزم کے ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے حاصل ہوئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم کاڈی این اے 8 متاثرہ بچوں سے میچ کر گیا ہے جو عدالت میں اسے سزا دلوانے کے لیے ٹھوس سائنسی ثبوت تصور کیا جا رہا ہے۔ دیگر بچوں کے نمونے بھی لیبارٹری بھجوائے گئے ہیں جن کی رپورٹس کا انتظار ہے۔ دورانِ تفتیش یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزم کی اپنی گھریلو زندگی بھی تنازعات کا شکار تھی۔ سال 2024ء میں ملزم کی بیوی اسے چھوڑ کر بچوں سمیت فیصل آباد منتقل ہوگئی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں