خلا کے خاموش دیو کی آنکھ کھل گئی: 10 کروڑ سال بعد بلیک ہول متحرک
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
خلا میں ایک غیر معمولی اور حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں 10 کروڑ برس سے غیر فعال رہنے والا ایک عظیم الجثہ بلیک ہول اچانک متحرک ہو گیا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق یہ بلیک ہول ایک خلائی آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑا ہے، جس کے نتیجے میں زبردست توانائی اور جیٹس خارج ہوئے ہیں۔ اس واقعے کا مشاہدہ خلا میں موجود ایک دور دراز کہکشاں J1007+3540 کے مرکز میں کیا گیا ہے، جس نے ماہرین فلکیات کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق اس کہکشاں کے مرکز میں موجود بلیک ہول گزشتہ 10 کروڑ برس سے خاموش تھا اور کسی قسم کی سرگرمی کے آثار نہیں مل رہے تھے، تاہم اچانک اس کے دوبارہ فعال ہونے سے نہ صرف کہکشاں کا اندرونی نظام متاثر ہوا بلکہ خلا میں ایک وسیع پیمانے پر ہنگامہ برپا ہو گیا۔
ریڈیو تصاویر میں اس کہکشاں کو بے ہنگم اور انتشار میں مبتلا حالت میں دیکھا گیا ہے، جسے رائل آسٹرونومیکل سوسائٹی نے شدید کشمکش کی کیفیت قرار دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ کشمکش بلیک ہول سے دوبارہ خارج ہونے والے طاقتور جیٹس اور کہکشاں میں موجود مادے کے جتھوں کے درمیان جاری ہے۔ ان جیٹس نے لاکھوں نوری سال کے فاصلے تک خلا میں اثرات مرتب کیے ہیں، جس سے کہکشاں کی ساخت اور حرکیات میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ اندازوں کے مطابق یہ کہکشاں خلا میں تقریباً 10 لاکھ نوری سال کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے، جس کے باعث اس واقعے کے اثرات انتہائی وسیع سمجھے جا رہے ہیں۔
اس غیر معمولی خلائی سرگرمی کو جدید ترین ریڈیو ٹیلی اسکوپس کے ذریعے عکسبند کیا گیا ہے۔ سائنس دانوں نے اس بلیک ہول کے دوبارہ جاگنے کے مناظر لو فریکوئنسی ایرے اور بھارت کی اپ گریڈڈ جائنٹ میٹرویو ریڈیو ٹیلی اسکوپ کی مدد سے ریکارڈ کیے، جس سے اس خلائی انتشار کی تفصیلات سامنے آئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مشاہدہ بلیک ہولز کے طرزِ عمل کو سمجھنے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
فلکیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ بلیک ہولز لاکھوں یا کروڑوں سال تک خاموش رہنے کے بعد بھی اچانک متحرک ہو سکتے ہیں۔ یہ عمل کہکشاؤں کی تشکیل، ان کے ارتقا اور خلا میں مادے کی تقسیم کو متاثر کر سکتا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق ایسے واقعات ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ کائنات میں موجود انتہائی طاقتور قوتیں کس طرح طویل وقفوں کے بعد دوبارہ سرگرم ہو جاتی ہیں۔
ماہرین اس بات پر بھی تحقیق کر رہے ہیں کہ آخر کن عوامل کے باعث یہ بلیک ہول اتنے طویل عرصے بعد دوبارہ فعال ہوا۔ ممکن ہے کہ کہکشاں کے اندرونی مادے کی نئی فراہمی یا کسی بیرونی تعامل نے بلیک ہول کو دوبارہ توانائی فراہم کی ہو۔ یہ واقعہ مستقبل میں بلیک ہولز اور کہکشاؤں کے تعلق پر ہونے والی سائنسی تحقیق کیلئے نئی راہیں کھول سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق بلیک ہول خلا میں گیا ہے
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔