ایک انسپکٹر، ایک مافیا اور پورے علاقے کا ڈھانچہ خطرے میں!قبضہ مافیا نظرانداز
بلاک 12پلاٹ SB 21+22, SB 31+32 پر خلاف ضابطہ تعمیرات جاری

گلستان جوہر کے رہائشیوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کرنے والا ایک ماسٹر گیم چل رہا ہے اور اس گیم کا سب سے بڑا کھلاڑی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا وہی انسپکٹر ہے جس کی ذمہ داری انہیں بچانا تھی۔ اورنگزیب خان کو جوہر میں تعینات کردیا گیا ہے ۔ گلستان جوہر کا نقشہ آج کل ایک پراسرار دستاویز بن چکا ہے ۔جو عمارتیں بن رہی ہیں، وہ کسی کاغذ پر نہیں، بس افسران کی ’خصوصی منظوری‘ سے بن رہی ہیں۔ بلاک 12پلاٹ نمبر SB 21+22اور SB 31+32پر جاری تعمیرات میں پارکنگ غائب؟ اوپن اسپیس ندارد؟ سیوریج سسٹم تباہ حال؟ مگر تعمیر دن کے اجالے میں جاری ہے ،سوال یہ ہے کہ جب اسی اتھارٹی کا ایک اہم افسر ہی قانون کی کھلی خلاف ورزی کا راستہ ہموار کر رہا ہو،تو پھر اتھارٹی کا وجود محض ایک ’لیبل‘ سے زیادہ کیا ہے ؟ کیا اس اتھارٹی میں بیٹھے اعلیٰ افسران کو پتہ نہیں کہ ان کا ایک انسپکٹر کیا کر رہا ہے ؟ یا پھر یہ سب ایک مربوط سازش کا حصہ ہے جہاں اونچی سطح پر سب کچھ طے ہوتا ہے ؟ناظم آباد سے گلستان جوہر تک اورنگزیب خان کا یہ پہلا میچ نہیں۔ان کا ’ٹیلنٹ‘ پہلے بھی ناظم آباد میں دیکھا جا چکا ہے ۔ وہاں بھی ان کی ’سرپرستی‘ میں سینکڑوں عمارتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ جہاں جہاں اورنگزیب خان تعینات ہوتے ہیں، وہاں غیر قانونی تعمیرات کا سیلاب آ جاتا ہے ۔ مقامیوں کا کہنا ہے کہ ہم زندہ رہنا چاہتے ہیں!گلستان جوہر کے لوگ خوف کے ماحول میں جی رہے ہیں۔ان کی دعا ہے کہ کہیں ان کی عمارت بھی کسی حادثے کا شکار نہ ہو جائے ۔ ان کا سوال ہے :’’کسی زلزلے یا آگ کے بعد ہمیں بچانے والا کون ہوگا؟ کیا اورنگزیب خان ہمارے گھروں کی حفاظت کرے گا یا اپنی جیب بھرنے میں مصروف رہے گا‘‘؟یہ صرف غیر قانونی تعمیرات کی کہانی نہیں۔یہ ایک ’انسانی حفاظت کی دھندہ بازاری‘ کی کہانی ہے ۔جہاں ایک انسپکٹر اپنے عہدے کو ڈھال بنا کر ہزاروں لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے۔ یہ اس ’نظام کی بے حسی‘ کی کہانی ہے جو چلتے ہوئے مجرموں کو پکڑنے کی بجائے آنکھیں بند کیے بیٹھا ہے ۔ہم وزیر بلدیات اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل سے سوال کرتے ہیں:کیا آپ کے ادارے میں اورنگزیب خان جیسے لوگوں کے لیے کوئی جگہ ہے؟ کیا آپ اس واقعے کی صرف سطحی تحقیقات کروا کر بات ختم کر دیں گے یا پھر اس پورے گٹھ جوڑ کی گہرائی میں جا کر اصل مجرموں کو سزا دلائیں،یہ خبر صرف خبر نہیں،گلستان جوہر کے رہائشیوں کی آواز ہے ۔ یہ آواز اب تک کی سب سے بڑی انتباہ ہے ۔ اگر اب بھی نہ سنی گئی، تو آنے والا کل کراچی کے لیے کسی بھیانک خواب سے کم نہ ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: اورنگزیب خان گلستان جوہر

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن