پنجاب پولیس نے سی سی ڈی پر جعلی مقابلوں کے تمام الزامات بے بنیاد قرار دے دیے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
--فائل فوٹو
پنجاب پولیس نے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) پر جعلی پولیس مقابلوں کے تمام الزامات بے بنیاد قرار دے دیے۔
لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر پولیس نے اپنی تحریری رپورٹ جمع کروادی جس کے مطابق سی سی ڈی کے قیام کے بعد ڈکیتی، چوری اور قتل سمیت دیگر جرائم میں کمی آئی ہے۔
پولیس رپورٹ کے مطابق 7 ماہ میں سی سی ڈی کی کارروائیوں سے پراپرٹی سے متعلق جرائم 64 فیصد کم ہوئے، ڈکیتی اور قتل کے واقعات میں بھی 60 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔
جسٹس عبہر گل نے میاں داؤد ایڈووکیٹ اور دیگر وکلاء کی درخواست پرسماعت کی۔
پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2024 میں ڈکیتی کے 792 اور 2025 میں 324 واقعات رپورٹ ہوئے، ڈکیتی کے کیسز کی شرح میں 69 فیصد کمی آئی ہے۔
پولیس کی جانب سے جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ راہزنی کے واقعات 41 ہزار سے کم ہو کر 18 ہزار 608 رہ گئے ہیں اور ان میں 62 فیصد کمی آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گاڑیاں چھیننے کے واقعات میں 64 فیصد، کار چوری کے واقعات میں 60 فیصد، موٹرسائیکل چھیننے کے واقعات میں 53 فیصد کمی ہوئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈکیتی بمعہ قتل کے کیسز 170 سے کم ہوکر 96 ہوئے اور ان میں 60 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔
پولیس رپورٹ کے مطابق سی سی ڈی آپریشنز میں ایک سب انسپکٹر شہید اور 96 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، سی سی ڈی پر الزامات سوشل میڈیا افواہوں پر مبنی ہیں، ان کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔
رپورٹ کے مطابق سی سی ڈی تمام جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاتفریق کارروائیاں کرتی ہیں، گرفتاریوں، شفاف تفتیش اور قانونی تقاضوں کے مطابق پراسیکیوشن یقینی بنائی جاتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: رپورٹ کے مطابق کے واقعات میں فیصد کمی سی سی ڈی
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔