لاہور کے علاقے بھیکے وال میں پالتو شیر نے 8 سال کی بچی پر حملہ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
لاہو ر(ڈیلی پاکستان آن لائن )لاہور کے علاقے بھیکے وال پنڈ میں پالتو شیر کے حملے میں آٹھ سالہ بچی زخمی ہو گئی۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے شیر کو تحویل میں لے کر اس کے مالکان کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کےمطابق بھیکےوال پنڈ میں ایک شہری نےغیرقانونی طور پرگھر پر شیر پال رکھا ہوا تھا۔ ملزمان بلاول اورشجاعت رکشے سے پالتوشیرنی کو اتار رہےتھےکہ اسی دوران شیرنی نےحملہ کر دیا،جس کے نتیجےمیں آٹھ سالہ بچی زخمی ہو گئی،حملے سے بچی کی ٹانگ اور کان پر گہرے زخم آئے،متاثرہ بچی کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پنجاب میں ملکی تاریخ کے پہلے گرین پولیسنگ یونٹ کا افتتاح
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے فرار ہونے والے ملزمان کو نواں کوٹ کے علاقے سے گرفتار کر لیا، جبکہ شیرنی کو تحویل میں لے کر محکمہ وائلڈ لائف کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہےکہ ملزمان کے پاس شیر رکھنےکاکوئی لائسنس موجود نہیں تھا، جبکہ واقعے کا مقدمہ درج کرنےکا عمل جاری ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کر دیا
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔