ایف آئی اے نے رشوت، اغوا اور اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث 4 افسران کیخلاف مقدمہ درج کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
ایف آئی اے گوجرانوالہ نے رشوت، اغوا اور اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے 4 افسران سمیت 8 افراد کیخلاف مقدمہ درج کرلیا۔
ایف آئی اے کی جانب سے مقدمہ نیشنل سائبر کرائم اینڈ انویسٹیگیشن ایجنسی کے سب انسپکٹرز امیر حمزہ،مجاہد علی،اے ایس آئی شہروز اور افسر اللہ یار پر درج کیا گیا،مقدمہ میں پرائیویٹ فرنٹ مین حاجی وقار،عاصم محمود،عثمان علی اور نعمان علی کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے سرکل گوجرنوالہ نے چھاپہ مار کر اے ایس آئی شہروز اور سٹاف افسر اللہ یار کو گرفتار بھی کر لیا ہے،وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ترجمان کے مطابق این سی سی آئی اے کے افسران کیخلاف مقدمہ شہری مظفر اقبال کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
مدعی نے درخواست میں مؤقف اپنایا تھا کہ این سی سی آئی اے کے افسران نے آن لائن ٹریڈنگ کرنے والے اس کے 4 بچوں پر کرپٹوکرنسی کا کاروبار کرنے کا الزام لگا کر غیر قانونی طور پر اغوا کیا اور رہائی کے عوض 5 کروڑ روپے رشوت کا مطالبہ کیا جبکہ سائبر کرائم افسران نے 30 لاکھ روپے رشوت لیکر اس کے بیٹوں کو چھوڑ دیا۔
ایف آئی اے نے تحقیقات کے بعد 4 افسران سمیت 8 افراد کیخلاف مقدمہ درج کر کے 2 کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ مزید ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کیخلاف مقدمہ ایف آئی اے
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔