Jasarat News:
2026-07-24@01:39:50 GMT

ایم کیوایم کا کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے کا مطالبہ

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: متحدہ قومی موؤمنٹ (ایم کیوایم) پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر مصطفیٰ نے کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے کا مطالبہ کردیا۔

کراچی کے بہادرآباد آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیوایم کے رہنما اور وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کراچی میں جاری تشدد اور انسانی جانوں کے ضیاع کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کو آرٹیکل 148 اور 149 کے تحت وفاقی دارالحکومت کے دائرہ اختیار میں لایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ شہر پہلے ایسا نہیں تھا، اب یہاں کے شہری مسلسل خطرات اور جان لیوا واقعات کا سامنا کر رہے ہیں، دنیا چاند پر جارہے ہیں، کراچی میں بچے گٹر میں گرکر مرجاتے ہیں،  اس شہر کے رہنے والوں کی نسل کشی ہو رہی ہے اور یہ ایک سنگین قومی مسئلہ ہے۔

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں میں سے ایک ہے اور وہ شہریوں کے تحفظ اور ذمہ داریوں کے حوالے سے ہر ممکن اقدامات کرتی رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن بنیادوں پر آپ خود کھڑے ہیں، انہی کو کھوکھلا کیا جا رہا ہے، جب کراچی لہولہان ہوتا ہے تو اس کا اثر پورے پاکستان پر پڑتا ہے، بات کا معیار اور لہجہ نہیں بلکہ اصل مسئلہ دیکھنا چاہیے، فوری طور پر کراچی کو وفاقی انتظام کے
تحت لایا جائے۔

پیپلز پارٹی کی حکومت کے 18 سال بعد بھی جب بلدیاتی امور اور آتشزدگی کے حوالے سے سوالات اٹھتے ہیں تو جواب میں الزام ایم کیو ایم پر ڈال دیا جاتا ہے کہ انہوں نے بلدیہ فیکٹری میں آگ لگائی تھی، شہر میں ہونے والے حادثات اور آگ کے واقعات کے ذمہ دارانہ مسائل کو حل کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایم کیو ایم نے ریاست کے تعاون سے شہر میں غیرقانونی اسلحہ جمع کر کے حکومت کو دیا، تاہم ریاست 30 سالوں تک شہر میں امن قائم کرنے میں ناکام رہی، سندھ حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کوٹا سسٹم اور شہری مسائل کے حل میں ناکامی نے شہریوں کے مسائل مزید بڑھا دیے ہیں۔

وزیر نے کہا کہ شہر کے شہری مسلسل دہشت گردی اور بے یقینی کی لپیٹ میں ہیں، یہ شہر کن لوگوں کے حوالے کر دیا گیا ہے، ایک دن میں 100 سے زائد افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں اور یہ کھلی کھلی جمہوری دہشتگردی ہے، کتنے اور لوگ جل کر موت کے منہ میں جائیں گے، کتنے بچے گٹر میں گر کر اپنی جانیں کھویں گے اور آخر ہماری داد رسی کب ہوگی؟

انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت اور ریاستی ادارے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام ہیں اور وزیراعظم کی خواہشات کے باوجود پیپلزپارٹی کے دباؤ کے باعث کراچی کے مسائل حل نہیں ہو پا رہے۔

مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ اب مزید انتظار نہیں کیا جا سکتا اور کراچی کو مالی و انتظامی طور پر وفاق کے تحت لایا جائے تاکہ شہریوں کی جانوں اور معاشرتی وسائل کی حفاظت کی جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کے تحت جاری موجودہ نظام اب شہر کے لیے خطرناک ثابت ہو رہا ہے، جس سے شہریوں کی نسل کشی ہو رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 18ویں ترمیم کے اثرات فوری طور پر ختم کیے جائیں اور کراچی کو وفاق کے دائرہ اختیار میں شامل کر کے ایک مضبوط اور محفوظ انتظامیہ فراہم کی جائے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کراچی کو وفاق انہوں نے کے تحت کہا کہ کیا کہ

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا