عالمی چیمپئن محمد آصف کی شاندار فتح: قومی اسنوکر کا تاج ایک بار پھر اپنے نام کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کے نامور اسنوکر کھلاڑی اور 3 مرتبہ کے عالمی چیمپئن محمد آصف نے ایک بار پھر اپنی مہارت اور تجربے کا لوہا منوا لیا ہے۔
انہوں نے نیشنل بینک گولڈن جوبلی 50ویں قومی اسنوکر چیمپئن شپ جیت کر پانچویں مرتبہ نیشنل چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ یہ کامیابی نہ صرف ان کے شاندار کیریئر میں ایک اور سنگِ میل ہے بلکہ پاکستانی اسنوکر کی تاریخ میں بھی ایک اہم باب کی حیثیت رکھتی ہے۔
نیشنل بینک اسپورٹس کمپلیکس میں کھیلے گئے فائنل مقابلے میں محمد آصف کا مقابلہ پنجاب کے مایہ ناز کھلاڑی رانا عرفان سے ہوا۔ 11 فریمز پر مشتمل یہ فائنل انتہائی دلچسپ اور سنسنی خیز رہا، جس میں دونوں کھلاڑیوں نے اعلیٰ معیار کا کھیل پیش کیا۔
اگرچہ رانا عرفان نے 2 شاندار سنچری بریک کھیل کر شائقین کو خوب محظوظ کیا، تاہم وہ فیصلہ کن لمحات میں محمد آصف کو شکست نہ دے سکے۔
رانا عرفان نے دوسرے فریم میں 112 اور ساتویں فریم میں 141 کا شاندار بریک کھیلا، جو اس چیمپئن شپ کا سب سے بڑا بریک قرار دیا گیا۔ اس کے باوجود محمد آصف نے مسلسل یکسوئی اور اعصابی مضبوطی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میچ اپنے نام کر لیا۔ محمد آصف نے پوری چیمپئن شپ کے دوران مجموعی طور پر 8 سنچری بریک کھیلے، جو ان کی فنی برتری کا واضح ثبوت ہیں۔
چیمپئن شپ کے اختتام پر منعقدہ تقریب میں کامیاب کھلاڑیوں میں 16 لاکھ روپے کے انعامات تقسیم کیے گئے۔ انعامات نیشنل بینک کے صدر رحمت حسنی، پاکستان بلئرڈ اینڈ اسنوکر ایسوسی ایشن کے صدر عبدالقادر میمن اور دیگر عہدیداران نے تقسیم کیے۔ تقریب میں اسنوکر سے وابستہ شخصیات اور شائقین کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔
اس موقع پر محمد آصف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان کے لیے عالمی، ایشین اور سارک سطح پر بے شمار اعزازات جیتے ہیں، مگر بدقسمتی سے انہیں اب تک مکمل انعامی رقم اور وہ پذیرائی نہیں مل سکی جس کے وہ حق دار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی بروقت کی جائے تو پاکستان عالمی سطح پر مزید کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چیمپئن شپ
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں