چینی محققین کا کارنامہ: آنکھ کی سرجری کرنے والا روبوٹ تیار کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
بیجنگ (ویب ڈیسک) چینی محققین نے بڑا کرنامہ سرانجام دیتے ہوئے آنکھ کی سرجری کرنے والا روبوٹ تیار کرلیا۔
مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق چینی محققین کی ایک ٹیم نے آنکھ کی سرجری کرنے کی صلاحیت رکھنے والا خودکار روبوٹک نظام تیار کیا ہے جس سے ریٹینا کی بیماریوں کے علاج میں سرجری کی درستی اور حفاظت میں نمایاں اضافہ ممکن ہو گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ روبوٹ چین کی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف آٹومیشن کے محققین نے تیار کیا ہے، حالیہ مطالعے کے مطابق، اس نے جانوروں پر کئے گئے تجربات میں سب ریٹینل اور انٹراویسکولر انجیکشنز 100 فیصد کامیابی کے ساتھ لگائے۔
واضح رہے کہ یہ تحقیق سائنس روبوٹکس جریدے میں شائع ہوئی ہے، آنکھ کی سرجری، خصوصاً ریٹناکی پیچیدہ سرجری، انتہائی مشکل ہوتی ہے کیونکہ آنکھ کی ساخت چھوٹی اور نرم ہوتی ہے، نیا نظام ڈی تھری سپیشل پرسیپشن، درست پوزیشننگ اور ٹریکٹری کنٹرول الگورتھمز استعمال کرتا ہے تاکہ روبوٹک بازو کی رہنمائی کی جا سکے۔
مطالعے کے مطابق آنکھوں کے مصنوعی ماڈلز، ایکس وائیوو سور کے اور زندہ جانوروں پر تجربات میں یہ روبوٹ دستی سرجری کے مقابلے میں اوسط پوزیشننگ غلطیوں کو تقریباً 80 فیصد اور سرجن کنٹرول شدہ روبوٹک سرجری کے مقابلے میں تقریباً 55 فیصد کم کر گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کی سرجری
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔