مریضہ کی موت پر ڈاکٹروں اور لواحقین میں جھڑپ، ڈھاکہ اسپتال میں صورتحال کشیدہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
ڈھاکہ میڈیکل کالج اسپتال میں جمعرات کی صبح ایک مریضہ کی ہلاکت کے بعد ڈاکٹروں اور لواحقین کے درمیان تصادم کے باعث ایمرجنسی طبی خدمات ساڑھے 3 گھنٹے معطل رہیں۔
ایمرجنسی سروسز کی معطلی اس وقت عمل میں آئی جب مریضہ کے اہلِ خانہ نے طبی غفلت کے الزامات عائد کیے، جبکہ ڈاکٹروں نے آن ڈیوٹی ڈاکٹروں پر حملے کا الزام مریضہ کے رشتہ داروں پر لگایا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈھاکہ، پاکستانی شہری کی فیملی تنازع کے دوران خودکشی کی کوشش
سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر ڈاکٹروں نے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کا مرکزی دروازہ بند کر دیا، جس کے نتیجے میں رات تقریباً ایک بجے سے صبح ساڑھے 4 بجے تک ایمرجنسی خدمات بند رہیں۔
بعد ازاں خدمات بحال کر دی گئیں اور صورتحال معمول پر آ گئی۔
Shock at Dhaka Medical: doctors attacked and emergency services shut for hours after a patient’s death, disrupting care and sparking outrage across the health sector.
— ChittagongChronicles (@Chittagong_0) January 22, 2026
اہلِ خانہ کے مطابق عظیم پور علاقے کی رہائشی 33 سالہ رشیدہ بیگم جگر سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث اسپتال کے میڈیسن وارڈ میں زیرِ علاج تھیں۔
ان کے بیٹے کا کہنا ہے کہ علاج کے دوران ایک انجیکشن غلط طریقے سے لگایا گیا، جس کے بعد ان کی والدہ کی حالت تیزی سے بگڑ گئی اور وہ بدھ کی شب انتقال کر گئیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں 16 ماہ کے دوران 113 مزارات پر حملے، ڈھاکہ ڈویژن سرفہرست
اسپتال ذرائع کے مطابق آدھی رات کے فوراً بعد ڈاکٹروں اور مریضہ کے رشتہ داروں کے درمیان تلخ کلامی شروع ہوئی جو بعد میں ہاتھا پائی میں تبدیل ہو گئی۔
صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے انصار کے اہلکاروں، ٹرینی ڈاکٹروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مداخلت کی۔
ایک ٹرینی ڈاکٹر نے میڈیا کو بتایا کہ واقعے کے دوران متعدد ڈاکٹر زخمی ہوئے جنہیں ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں طبی امداد فراہم کی گئی۔
مزید پڑھیں: بھارت کا بنگلہ دیش سے اپنے سفارتی اہلکاروں کے اہلِ خانہ کو واپس بلانے کا فیصلہ
پولیس نے تصدیق کی ہے کہ 2 افراد کو حراست میں لے کر مزید تفتیش کے لیے شاہ باغ تھانے کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
کسی بھی ممکنہ بدامنی سے بچنے کے لیے اسپتال میں اضافی پولیس نفری اور ریپڈ ایکشن بٹالین کے اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر بنگلہ دیش کے سرکاری اسپتالوں میں موجود کشیدگی کو اجاگر کرتا ہے، جہاں طبی غفلت کے الزامات اور عملے کی سیکیورٹی سے متعلق خدشات اکثر تصادم کا باعث بنتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انجیکشن ایمرجنسی بدامنی بنگلہ دیش پولیس تصادم ڈاکٹر ڈھاکہ ریپڈ ایکشن بٹالین
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انجیکشن ایمرجنسی بنگلہ دیش پولیس ڈاکٹر ڈھاکہ ڈاکٹروں اور کے دوران
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔