کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کی پیشہ وارانہ صلاحیت نے کئی سوالات کھڑے کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
—فائل فوٹو
کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کی پیشہ وارانہ صلاحیت نے کئی سوالات کھڑے کر دیے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے اپنے ہیڈکوارٹر میں بھی فائر سیفٹی میکزم موجود نہیں۔ کیپیٹل ایمرجنسی سروسز میں 2007 کے بعد کوئی بھرتیاں نہیں ہوئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 18 سال میں بھرتی کیے گئے اسٹاف کی کبھی ٹریننگ ہی نہیں ہوئی، کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے پاس فائر سروس کے لیے 250 کا فائر اسٹاف ہے، کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے پاس 100 ایمبولینسز کا اسٹاف ہے۔
ریسکیو اہلکاروں کی جانب سے صرف ہوٹل کی ایک عمارت کو مکمل محفوظ قرار دیا گیا ہے۔
ریسکیو ذرائع نے کہا کہ کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے پاس 23 ایمبولینسز اور 20 فائر وہیکلز ہیں جبکہ کنٹرول روم میں وہیکل ٹریکنگ کا سافٹ وئیر موجود نہیں۔
کیپیٹل ایمرجنسی سروس کے پاس صرف 4 اسٹیشن ہیں، ڈبلیو ایچ او کے اسٹینڈرڈ کے مطابق اسلام آباد میں 14 اسٹیشن ہونے چاہئیں۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ کیپیٹل ایمرجنسی سروس کا ریسپانس ٹائم 17 سے 50 منٹ تک ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے پاس
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔