data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260122-03-7
یہ جو سنگ ریزوں کے ڈھیر ہیں
یہاں موتیوں کی دکان تھی
یہ جو چیونٹیاں ہوئیں خیمہ زن
یہاں تتلیوں کی اڑان تھی

کراچی کا المیہ، گل پلازہ مارکیٹ اب ملبے کا ایسا ہی ڈھیر ہے جہاں قہقہے گونجتے تھے، خوشیاں رقص کرتی تھیں، امیدوں کی خرید وفروخت ہوتی تھی۔ وہاں اب خزائوں کے ڈیرے اور ویرانیوں کے سناٹے ہیں جنہیں چیخیں گہرا کررہی ہیں۔ گل پلازہ آج سسکیوں اور آہ وزاری کا مرکزبن گیا ہے جہاں لوگ اپنے پیاروں کی دید کے منتظر ہیں خواہ وہ جلی ہوئی لاشوں کی شکل میں ہی کیوں نہ ہوں۔ گل پلازہ کے ملبے کے نیچے صرف لاشیں نہیں ہیں سلائی مشینوں پر جھکے ہوئے خواب ہیں، روٹی روزی کی فراہمی کے یقین ہیں، کاروبار کی وسعتوں کے موسم ہیں۔ یہ جو درد کی چیخیں یہاںگونج رہی ہیں کبھی گل پلازہ ان کے خوابوں کی تعبیر اور امیدوںکی آواز تھا۔

گل پلازہ اب مارکیٹ نہیں، ملبہ اور ٹوٹے دلوں کا قبرستان ہے، ایک داستان ہے جس کا ہر لفظ آنسو ئوں میں بھیگا ہوا ہے۔ ورثا اب لاشیں نہیں اپنے پیاروں کی نشانیاں ڈھونڈ رہے ہیں۔ باپ جلے ہوئے کپڑوں سے پہچان کر رہے ہیں، بھائی اور بیٹے جوتوں کے تلووں سے شناخت کررہے ہیں اور مائیں انہیں تلاش کرنے کا یارا کہاں۔ ان کی خاموشی چیخ رہی ہے۔ کراچی کے بازار، کراچی کی مارکیٹیں اب صرف کاروبار نہیں دیتیں لاشیں بھی دیتی ہیں۔ امیدیں بھی اجاڑتی ہیں۔ گل پلازہ میں آگ نہیں لگی انسان، ان کے کاروبار، گھر اور زندگیاں جلائی گئی ہیں۔

سانحہ گل پلازہ محض آگ لگنے کا واقعہ نہیں رہا ریاست، حکومت، نظام اور یتیم ویسیر کراچی کا نوحہ اور مقدمہ بن گیا ہے جو ہر ذمے دار کو کٹہرے میں کھڑا دیکھنا چاہتا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ آگ اچانک لگی ہے، آگ کبھی اچانک نہیں لگتی، فائر سیفٹی اچانک غائب نہیں ہوتی، ایمر جنسی راستے محض اتفاقاً بند نہیں ہوتے۔ یہ لاپروائیوں اور غفلتوں کا تسلسل تھا جو یک دم بھڑک اٹھا۔ یہ حادثہ نہیں منظم جرم تھا حکومت کا ہر ذمے دار جس میں ملوث ہے۔ عمارت میں تجاوزات کی کس نے اجازت دی؟ فائر سرٹیفکیٹ کس نے جاری کیا؟ آگ کے پچھلے واقعات کی وجوہات کہاں، کیوں اور کس نے دفن کیں؟ کیا یہ آخری سانحہ ہوگا؟ کوئی ہے! کوئی ہے! جو یتیم کراچی کا وارث ہو؟ اس کی ذمے داری قبول کرے۔ گل پلازہ کی راکھ کو، کراچی کے المیوں اور سانحوں کا اختتام بناسکے۔

گل پلازہ میں کیا نہیں تھا۔ کپڑوں کی دکانیں تھیں، سلے سلائے ملبوسات کے ڈھیر تھے، کراکری تھی، کھلونے تھے، نومولودوں کو خوش آمدید کہنے کے سامان تھے، شادی شدہ جوڑوں کے خواب تھے، سفر سمیٹے بیگ اور سوٹ کیس تھے، تزئین وآرائش کے گل بوٹے تھے۔ ہر شے موجود تھی۔ اگر نہیں تھا تو آگ بجھانے کا سامان نہیں تھا، باہر نکلنے کے محفوظ راستے نہیں تھے، سامانوں اور دکانوں کے بیمے تھے مگر انسانوں کو جلنے سے بچانے کے لیے، ان کے تحفظ کے لیے کچھ نہیں تھا۔

گل پلازہ کی آگ بجھانے کے لیے شہر میں کیا ممکن نہیں ہوسکتا تھا؟ یہاں چار کروڑ کی آبادی کے تناسب سے درجنوں نہیں سیکڑوں فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موجود ہوسکتی تھیں! ہر چند کلو میٹر کے فاصلے پر فائر اسٹیشن ہوسکتے تھے جن میں جدید آلات اور تربیت یا فتہ عملہ ہوسکتا تھا لیکن کراچی کو لوٹنے والوں نے کھانے والوں نے اس شہر کے باسیوں کی زندگی کے لیے ہی نہیں موت کے لیے بھی کچھ نہیں چھوڑا۔ گل پلازہ میں آگے کے شعلے چند منٹوں میں پھیل گئے لیکن فائر بریگیڈ کی چند گاڑیاں دو گھنٹے بعد پہنچیں۔ شہر کی ہر سمت اور ہر جگہ کھدی ہوئی سڑکوں میں، ٹریفک جام میں ممکن ہی نہیں تھا کہ فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو بھی راستہ ملنا ممکن ہوسکتا۔ ورنہ زندگیاں بچائی جاسکتی تھیں، کھڑکیاں توڑی جاسکتی تھیں، لوہے کی ریلنگز اور جالیاں اکھاڑی جاسکتی تھیں، رکاوٹی دیواریں گرائی جاسکتی تھیں لیکن کچھ نہیں ہوسکا۔

ابتدائی گھنٹے جو آگ لگنے کے بعد سب سے زیادہ اہم ہو سکتے تھے ان میں صرف ایک کام ہوسکا، انسان اور انسانیت دھوئوں کے مرغولوں میں رل گئی، بے ہوش ہوکر گر پڑی، جل کر خاموش ہو گئی۔ یہ ترجیحات کا بحران تھا۔ فائر بریگیڈ کی گاڑیوں میں پانی و

افر موجود نہیں تھا، آگ بجھانے والا فوم اگلے دن دستیاب ہوسکا۔ فائر بریگیڈ تاخیر سے پہنچی، یہ محض انتظامی معاملہ نہیں تھا، ٹوٹی پھوٹی کھدی ہوئی سڑکیں آج کا مسئلہ نہیں، ٹریفک جام کسی ہنگامے کی پیداوار نہیں، یہ سب اس سوچ کی پیداوار ہے جس میں کراچی کے شہریوں کی جان ومال اور ان کی مشکلات کی کوئی حیثیت نہیں۔ ان کی جان اور مال کی حفاظت حکومت کی فہرست میں سب سے آخر میں آتی ہے۔

کراچی پاکستان کا سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شہر ہے۔ اس ٹیکس سے ملک کا پیٹ بھرتا ہے۔ ملک کے اخراجات پورے ہوتے ہیں مگر اس ٹیکس کا پیسہ کراچی کی گلیوں میں لگتا نظر نہیں آتا، کراچی کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی تعمیر میں خرچ نہیں ہوتا۔ اس کے فٹ پاتھوں کو کشادہ نہیں کرتا۔ اس کے اسپتالوں کو ادویات اور دیگر ضروریات فراہم نہیں کرتا، اس کے بچوں کو تعلیم مہیا نہیں کرتا، اس کے فائر اسٹیشنوں کو گاڑیاں اور گاڑیوں کو آگ بجھانے کے آلات اور جدید سامان ممکن نہیں بناتا۔ سو سے زائد شہری چند ماہ میں گٹروں میں گر کر مرگئے لیکن گٹروں کے لیے ڈھکن پورے نہیں کرتا۔ یہ شہر سب کی بھوک مٹاتا ہے لیکن خود بھوکا اور پیاسا ہے۔ یہاں ایک مارکیٹ سے اتنا ٹیکس جمع ہوجاتا ہے جو پورے پورے شہروں سے اکٹھا نہیں ہوتا لیکن کراچی کی مارکیٹوں کی حفاظت کا، جلنے سے تباہ ہونے سے بچانے کے لیے اخراجات، صوبائی حکومت کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں آتے۔

18 برس سے اس شہر پر ایک ایسی صوبائی حکومت مسلط ہے جس نے طے کررکھا ہے کہ کراچی کی کوئی ضرورت پوری نہیں کرنی ہے۔ کراچی کو صرف نچوڑنا ہے، یہاں پر کچھ لگانا نہیں ہے۔ یہاں سے پیپلز پارٹی کو چونکہ ووٹ نہیں ملتے اس لیے کراچی سے بیزاری اب اس مرحلے میں ہے کہ کراچی کے شہریوں کے دل جیتنے، یہاں سے ووٹ لینے کی کوئی کوشش بھی اب پیپلزپارٹی کی حکومت نہیں کرتی۔ اسے صرف کراچی کے وسائل چاہییں، زندگی نہیں، کاروبار نہیں،کمائی چاہیے۔

کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے بدلے میں اسے کوڑا کرکٹ، کچرے کے جابجا بکھرے ہوئے پہاڑ ملتے ہیں۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ملتی ہیں، لوڈ شیڈنگ ملتی ہے، گیس کی قلت ملتی ہے، پانی کی عدم دستیابی ملتی ہے، لاشیں ملتی ہیں، جلتی مارکیٹیں ملتی ہیں۔ کراچی میں رہنا ہے تو شہری اپنی بجلی آپ پیدا کریں، ٹینکروں سے پانی ڈلوانے کا آپ بندوبست کریں، علاج معالجے کی بچوں کی تعلیم کی خود فکر کریں، اپنی حفاظت کے لیے خود گارڈز کا انتظام کریں، جلنے سے بچنے کے لیے خود فائر سیفٹی کے معاملات دیکھیں۔ گل پلازہ کی آگ اس معاشی ناانصافی کا نتیجہ ہے جس کے بعد شہر کو ترقی نہیں صرف تبا ہی اور بربادی دی گئی ہے۔ گل پلازہ سے نکلنے والی سوختہ لاشیں صرف آگ کا شکار نہیں ہوئیں یہ پیپلزپارٹی کی اس سیاسی فیصلہ سازی کا شکار ہوئی ہیں جس نے کراچی کے نقشوں سے ترقی کو منہا کرکے صرف آگ اور راکھ کو مقدر بنا دیا ہے۔ اس شہر کی مارکیٹیں، بازار، پلازے، سڑکیں، بسیں، فیکٹریاں، رہائشی عمارتیں کب تک جلتی رہیں گی؟ کوئی ہے؟ کوئی ہے؟ جو بتاسکے، حتمی وقت کا تعین کرسکے۔

بابا الف سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فائر بریگیڈ کی جاسکتی تھیں ا گ بجھانے نہیں کرتا نہیں تھا کراچی کی گل پلازہ کراچی کے کوئی ہے کے لیے

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • شہرِ دل رُبا۔۔۔۔ راول پنڈی (تیسرا اور آخری حصہ)
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف