ایران کے خلاف کسی بھی نئے حملے کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، عباس عراقچی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران:ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی نئے حملے کی صورت میں سخت، بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا،ایران اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اگر دوبارہ جارحیت کی گئی تو پوری طاقت کے ساتھ جوابی کارروائی کی جائے گی۔
امریکی اخبار میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں عباس عراقچی نے لکھا کہ ایران کے خلاف امریکا کے جارحانہ اقدامات ناکام ہو چکے ہیں، دباؤ، دھمکیوں اور پابندیوں کی پالیسی نہ تو ایران کو کمزور کر سکی اور نہ ہی اسے اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر پائی، امریکا کی یکطرفہ پالیسیاں خطے میں عدم استحکام کا سبب بن رہی ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ جون 2025 میں ایران نے انتہائی ضبط اور تحمل کا مظاہرہ کیا تھا حالانکہ حالات سخت ردعمل کا تقاضا کر رہے تھے، اس وقت ایران نے خطے میں کشیدگی کم رکھنے کے لیے صبر کا راستہ اختیار کیا، اس تحمل کو کمزوری سمجھنا سنگین غلطی ہوگی، اگر ایران پر دوبارہ حملہ ہوا تو اس کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یہ کوئی دھمکی نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے، جسے بطور سفارت کار بیان کرنا وہ ضروری سمجھتے ہیں، کسی بھی ممکنہ جنگ کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آجائے گا اور اس کے نتائج دنیا بھر کے عام لوگوں کو متاثر کریں گے۔
عباس عراقچی نے امریکا پر زور دیا کہ وہ اپنا رویہ تبدیل کرے اور ایران کے ساتھ باہمی احترام کی بنیاد پر بات چیت کرے، ایران ہمیشہ سفارت کاری اور مذاکرات کا حامی رہا ہے، مگر دباؤ اور طاقت کی زبان کبھی بھی مسائل کا حل نہیں بن سکتی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عباس عراقچی ایران کے
پڑھیں:
سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔
مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے