میں جس علاقے میں رہتا ہوں وہاں طالبان کا قبضہ ہے: مولانا فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
—فائل فوٹو
جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میں جس علاقے میں رہتا ہوں وہاں طالبان کا قبضہ ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں زندہ رہنے کے لیے طالبان کو بھتہ دینا ضروری ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ تمام سرکاری افسران انہیں بھتہ دیتے ہیں، ہم یہاں جو بجٹ پاس کرتے ہیں ان کا 10 فیصد حصہ رکھ کر پاس کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے کئی سیاہ دن دیکھے ہیں، 8 فروری یوم سیاہ کے طور پر منائیں گے، پاکستان کے ساتھ بہت ظلم کیے گئے ہیں مگر 8 فروری کو انتہا کر دی گئی۔
ایک سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی ٹی آئی بڑی اپوزیشن ہے جو اپنی حکمت عملی بناتی ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ پوری اپوزیشن کو جس طرح ایک صف پر ہونا چاہئے تھا وہ کیفیت پیدا نہیں ہورہی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ان قانون سازیوں کو واپس لینا ہوگا، 27 ویں ترمیم میں جو استثنیٰ دی گئی ہیں وہ واپس کرنا ہوں گی، ہمارا گھر اور بچے بھی علاقے میں محفوظ نہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری پالیسیاں بین الاقوامی دباؤ کے تحت بنتی ہیں، کبھی ہم نے اپنی خارجہ پالیسی اپنے مفاد کی خاطر نہیں بنائی، بانی پاکستان نے اسرائیل کے قیام سے متعلق دو تاریخی اقدامات کیے، 1940 کی قرارداد تاسیس پاکستان کی قرارداد کے تحت ہے، 1948 میں جب اسرائیل وجود میں آیا تو اسے بانی پاکستان نے ناجائز قرار دیا۔
جے یو آئی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم نے کبھی سوچا ہے کہ بانی پاکستان کے فرمودات پر؟ ان پر عمل پیرا دور کی بات ہے، یہ ایوان منتخب ایوان نہیں مگر پھر بھی کبھی اس ایوان کو اعتماد میں لیا؟حکومت کا فرض ہے کہ وہ بتائے کہ کیا فیصلے کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آپ ایوان کو اعتماد میں نہیں لے رہے، چلیں مت لیں مگر کیا کابینہ کو اعتماد میں لیا؟ جب شملہ معاہدہ بھٹو کرنے جارہے تھے تو بھرے ایوان کو اعتماد میں لیا گیا، مشاورت اور مفاہمت کی روش اپنائیں تو بہت سارے الجھے مسائل سے نکل سکتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی کو قائد حزب اختلاف منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، محمود اچکزئی ایک طویل سیاسی تجربہ رکھتے ہیں، جو امور محمود اچکزئی نے بتائےغور کریں تو خوشحال مستقبل دکھا سکتے ہیں۔ مسائل بہت ہیں کہاں سے آغاز کیا جائے یہ ایک مشکل مرحلہ رہا ہے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان کو اعتماد میں نے کہا کہ کا کہنا
پڑھیں:
شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
( ملک رحمان)صوبہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع شانگلہ میں ایک نہایت افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک مکان کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔
یہ واقعہ ضلع شانگلہ کی تحصیل الپورئی میں پیش آیا، جس میں گزشتہ رات مکان کی چھت اچانک ڈھہ گئی اور گھر میں موجود بچے ملبے تلے دب گئے، واقعے میں ایک بچہ زخمی بھی ہو گیا ہے، جسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے سے تمام لاشیں اور زخمی بچی کو نکال لیا ہے، جاں بحق بچوں میں ناظرہ، سمیرا، رضوان، نایاب، حیا نور اور عمیرہ بی بی شامل ہیں، جن کی عمریں 5 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے والد جہان بشر کا کچھ ہی عرصہ قبل انتقال ہوا تھا، اور ان کا مکان کچا تھا۔ مرنے والوں میں پانچ لڑکیاں اور ایک لڑکا شامل ہیں۔