فوکوشیما کے 15 سال بعد جاپان نے دنیا کا سب سے بڑا ایٹمی پلانٹ دوبارہ فعال کردیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
جاپان نے فوکوشیما ایٹمی حادثے کے تقریباً 15 برس بعد دنیا کے سب سے بڑے ایٹمی بجلی گھر کاشیوازاکی-کاریوا نیوکلیئر پاور پلانٹ کو دوبارہ فعال کر دیا ہے۔
جاپانی کمپنی ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی (ٹیپکو) کے مطابق پلانٹ کے ایک ری ایکٹر نے بدھ کی شام باقاعدہ طور پر کام شروع کر دیا۔
ٹیپکو کے ترجمان نے بتایا کہ نیگاتا صوبے میں واقع پلانٹ کا یونٹ نمبر 6 شام 7 بج کر 2 منٹ پر شروع کیا گیا۔ اگرچہ صوبائی گورنر نے گزشتہ ماہ پلانٹ کی بحالی کی منظوری دے دی تھی، تاہم مقامی آبادی میں اس فیصلے پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق منگل کے روز درجنوں افراد نے شدید سردی اور برفباری کے باوجود پلانٹ کے باہر احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ٹوکیو کے لیے بجلی پیدا کرنے کے لیے مقامی آبادی کو خطرے میں ڈالنا ناانصافی ہے۔
ستمبر میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق 60 فیصد مقامی باشندے پلانٹ کی بحالی کے مخالف ہیں جبکہ 37 فیصد اس کے حق میں ہیں۔ ٹیپکو کا کہنا ہے کہ پلانٹ میں حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں، جن میں 15 میٹر اونچی سونامی دیوار، جدید ایمرجنسی پاور سسٹمز اور اضافی حفاظتی اپ گریڈز شامل ہیں۔
کاشیوازاکی-کاریوا دنیا کا سب سے بڑا ایٹمی بجلی گھر ہے، تاہم اس وقت سات میں سے صرف ایک ری ایکٹر فعال کیا گیا ہے۔ یہ پلانٹ 2011 میں آنے والے زلزلے اور سونامی کے بعد بند کر دیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں فوکوشیما نیوکلیئر پلانٹ میں شدید حادثہ پیش آیا تھا۔
جاپان اب ایٹمی توانائی کی بحالی کے ذریعے فوسل فیول پر انحصار کم کرنے، کاربن نیوٹرل اہداف حاصل کرنے اور توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کا خواہاں ہے۔ وزیرِاعظم سَنے تاکائچی نے بھی ایٹمی توانائی کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
تاہم مقامی افراد اور سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پلانٹ ایک فعال زلزلہ فالٹ لائن کے قریب واقع ہے اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال میں انخلا کے منصوبے ناکافی ہیں۔ جنوری کے آغاز میں تقریباً 40 ہزار افراد کے دستخطوں پر مشتمل درخواست بھی حکام کو جمع کروائی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز