اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پنجاب بلدیاتی انتخابات میں عدم تعاون کیس میں چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ جب لوکل گورنمنٹ نہیں ہوتی تو صوبائی حکومت بھی نہ ہو،صوبائی حکومت کے بغیر سب چل جائےگا، سپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن کی سربراہی میں کمیٹی بنا رہے ہیں،کمیٹی 10فروری تک اپنا کام مکمل کرے گی،ضرورت ہوئی تو آئندہ سماعت پر وزیراعلیٰ پنجاب کو بلائیں گے،وزیراعلیٰ پنجاب کو بتائیں مقامی حکومتیں نہ ہونا شرمندگی کی بات ہے،اگر تعاون نہیں کیاگیا تو کمیشن خود سب ٹیک اوور کرے گا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پنجاب بلدیاتی انتخابات میں عدم تعاون کیس کی سماعت ہوئی، چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 5رکنی کمیشن نے سماعت کی،چیف سیکرٹری پنجاب الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے،الیکشن کمیشن حکام نے کہاکہ پنجاب حکومت نے اپنے وعدے پورے نہیں کئے،مقرر وقت تک رولز نوٹیفائی نہیں کئے گئے،پنجاب میں مقامی حکومتوں کی مدت 31دسمبر2021کو ختم ہو چکی،حکومت نے حلقہ بندیوں کے نامکمل رولز شیئر کئے،پنجاب حکومت کے حلقہ بندی رولز پر اعتراض ہے،آئین 120روز میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقینی بناتا ہے،سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق صوبہ الیکشن کمیشن کو ہدایت نہیں دے سکتا، پنجاب میں 3بار حلقہ بندیاں کروا چکے ہیں۔

سانحہ گل پلازہ؛ اتنی بڑی آگ کو صرف شارٹ سرکٹ کا کہہ کر نہیں چھوڑ سکتے، ڈی سی ساؤتھ

چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ پنجاب اور اسلام آباد بلدیاتی انتخابات میں کیا چیز مشترکہ ہے؟ممبر پنجاب نے کہاکہ پنجاب اور اسلام آباد میں ایک ہی پارٹی کی حکومت ہے،کمیشن حکام نے کہاکہ ہم کسی کو توہین کمیشن میں ایک سکینڈ کی سزا دیں تو نااہلی ہوگی۔

چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیئے کہ ابھی تو یہ مرحلہ نہیں آیا، سیکرٹری  بلدیات پنجاب نے کہاکہ حلقہ بندی روز میں تاخیر صوبائی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی وجہ سے ہوئی،ہمارے حد بندی رولز نوٹیفائی ہو چکے ہیں، اعتراضات سنے جا رہے ہیں،حد بندی رولز پر اعترضات ختم کرکے صوبائی کابینہ منظوری دے گی،رولز منظوری کے بعد حلقہ بندیوں پر کام شروع کر سکیں گے،ممبر سندھ نے کہاکہ آپ نے خود ٹائم لائنز دیں، کیا صوبائی کابینہ کو پتہ نہیں تھا؟

اٹک؛پنڈ مہری میں گھریلو تنازع پر فائرنگ،5افراد جاں بحق

چیف سیکرٹری پنجاب نے کہاکہ ہم نے ڈیڈلائن سے 15روز قبل سمری بھیجی،پنجاب میں مقامی حکومتوں کا نظام بالکل مختلف اور نیانظام آ رہا ہے،ہم نے یونین کونسلز تک کے رولز بنا لئے ہیں،ہماری ٹیم آج کمیشن حکام کے ساتھ بیٹھ جائے گی،رولز کو ری ڈرافٹ کیا جو کمیشن حکام سے شیئر کردیا،ہر چیز کابینہ کے پاس جاتی ہے وہ ذیلی کمیٹی بنا دیتے ہیں،ذیلی کمیٹیوں میں معاملے جانے سے طول پکڑ لیتا ہے،ممبر پنجاب نے کہاکہ کیوں نہ ہم وزیر بلدیات کو بلا لیتے ہیں؟چیف سیکرٹری پنجاب نے کہاکہ ہم نے حلقہ بندیوں کیلئے تیاری مکمل کرلی،وزیراعلیٰ کی مکمل سپورٹ ہے ہر سمری ایک دن میں منظور ہو جاتی ہے۔

رمضان سے قبل ڈبل منافع خوری، آٹا 130 روپے کلو فروخت ہونے لگا

چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ جب لوکل گورنمنٹ نہیں ہوتی تو صوبائی حکومت بھی نہ ہو،صوبائی حکومت کے بغیر سب چل جائےگا، سپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن کی سربراہی میں کمیٹی بنا رہے ہیں،کمیٹی 10فروری تک اپنا کام مکمل کرے گی،ضرورت ہوئی تو آئندہ سماعت پر وزیراعلیٰ پنجاب کو بلائیں گے،وزیراعلیٰ پنجاب کو بتائیں مقامی حکومتیں نہ ہونا شرمندگی کی بات ہے،اگر تعاون نہیں کیاگیا تو کمیشن خود سب ٹیک اوور کرے گا، یہ مناسب نہیں کہ کمیشن ڈی سیز کو خود بلا کر فیصلے لے،20فروری تک سب کرلیں ورنہ کمیشن فیصلہ کرے گا، کمیشن کمیٹی اور سیکرٹریٹ بلدیات بیٹھ کر ڈیڈلائن طے کریں،10فروری تک حلقہ بندیوں میں حائل تمام رکاوٹیں دور کی جائیں ۔

 اعزازیہ پروگرام برائے امام مسجد صاحبان  کیلیے خصوصی ڈیسک قائم ،صرف10روز میں کتنی رقم تقسیم  کر دی گئی ؟ جانیے 

الیکشن کمیشن نے پنجاب  حکومت کو حلقہ بندیوں سے متعلق تیاریاں مکم کرنے کی ہدایت کردی،الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت20فروری تک ملتوی کردی۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: چیف الیکشن کمشنر نے بلدیاتی انتخابات پنجاب نے کہاکہ صوبائی حکومت الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں کمیشن حکام پنجاب کو کرے گا

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔

حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے