سانحہ گل پلازا کو قومی سانحہ قرار دیا جائے‘ اسلم فاروقی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (پ ر) بانیان پاکستان کی اولادوں کی تنظیم محب قومی سماجی کونسل (ایم کیو ایس سی) پاکستان کے چیئرمین و محب وطن سماجی رہنما محمد اسلم خان فاروقی نے سانحہ گل پلازا کو قومی سانحہ قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت پر گل پلازا آتشزدگی سازش کی اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کے لیے ایک بار پھر زور دیا اور کہا کہ گل پلازا آتشزدگی پر حکومت اور ریاست دونوں کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔ وہ کراچی آرٹس کونسل اور گل پلازا آتشزدگی کے جائے وقوع پر میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ اسلم خان فاروقی نے کہا کہ سانحہ گل پلازا میں 100سے زائد افراد مسنگ کی اطلاعات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی بلدیاتی و سندھ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ میں بری طرح سے ناکام ہوچکی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ شہر قائد اور اس کے عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلیے مافیاز کے خلاف بھرپور آپریشن کیا جائے ورنہ پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گل پلازا
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔