کیا مصنوعی ذہانت صحت کی دنیا میں بھی انقلاب لا سکتی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
دنیا کی دوا سازی کی صنعت ایک مشکل مرحلے سے گزر رہی ہے، جسے ماہرین ’ای روم کے قانون‘ کہتے ہیں۔ اس کے مطابق، کمپیوٹر ہر دو سال میں دوگنے طاقتور ہو جاتے ہیں، لیکن نئی دوا بنانے کی لاگت ہر نو سال میں تقریباً دوگنی ہو جاتی ہے۔ 1960 کی دہائی میں ایک ارب ڈالر سے 10 نئی ادویات بنائی جا سکتی تھیں، لیکن آج وہی رقم ایک دوا بھی تیار کرنے کے لیے کافی نہیں۔ یہ ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا مسئلہ ہے۔
مصنوعی ذہانت اے آئی اس صورتحال کو بدل سکتی ہے۔ اے آئی کی مدد سے دوا بنانے کا عمل تیز اور سستا ہو سکتا ہے، خاص طور پر ابتدائی مرحلے میں جہاں محققین لاکھوں مرکبات میں سے چند ممکنہ امیدوار چنتے ہیں۔ جدید اے آئی ماڈلز، جیسے AlphaFold 3، مالیکیولز کی ساخت کی پیش گوئی کر کے مہینوں کے تجربات کو صرف چند گھنٹوں میں مکمل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کی تیز رفتار پیش قدمی سے کونسی ملازمتیں خطرے میں؟ بل گیٹس نے بتا دیا
حالیہ مثالیں امید دلاتی ہیں۔ ایک اے آئی اسٹارٹ اپ نے صرف 18 ماہ میں نئی دوا کے لیے ہدف دریافت کیا اور انسانی ٹرائل کے لیے مالیکیول تیار کیا، جس کی لاگت 2.
اے آئی کا اثر صرف روایتی ادویات تک محدود نہیں۔ 2025 میں mRNA پر مبنی ذاتی کینسر ویکسینز میں کامیابی دیکھی گئی، جس میں AI مریض کے مخصوص ٹیومر کے مطابق مؤثر مالیکیول تلاش کرتا ہے۔ اگرچہ موجودہ عمل مہنگا اور پیچیدہ ہے، لیکن عام ویکسینز پر کام جاری ہے جو زیادہ لوگوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی پہلی سرکاری اے آئی اوتار ’لیلیٰ‘ کیا کام کرے گی؟
لیکن اے آئی کو چلانے کے لیے مضبوط انفراسٹرکچر درکار ہے۔ ڈیٹا سینٹرز کو بہت زیادہ بجلی چاہیے، اور بہت سے ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ چیلنج ہے۔ ساتھ ہی، امریکہ اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی تنازع بھی خطرہ ہے، کیونکہ جدید اے آئی چلانے کے لیے ضروری ہارڈویئر تک رسائی مشکل ہو سکتی ہے۔
پھر بھی، ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں مواقع روشن ہیں۔ بھارت اور چین جیسے ممالک اے آئی اور ڈیجیٹل خدمات میں عالمی مرکز بننے کی کوشش کر رہے ہیں، اور یہی ماڈل دوا سازی اور تشخیص کے شعبے میں بھی اپنایا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی جنگ: جیمنی کی مقبولیت میں اضافہ، چیٹ جی پی ٹی پیچھے، وجہ کیا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو اے آئی کے فوائد کے لیے صرف مغربی ٹیکنالوجی کے صارف بننے کی بجائے اپنی صلاحیتیں اور انفراسٹرکچر مضبوط کرنا ہوگا۔ اگر یہ قدم اٹھائے گئے تو 2026 گلوبل ساؤتھ کے لیے ایک اہم موقع ثابت ہو سکتا ہے، جہاں AI نہ صرف دولت بلکہ صحت کے بہتر مواقع بھی فراہم کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی‘ انقلاب اے آئی اے آئی ادویات
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے آئی انقلاب اے ا ئی اے ا ئی ادویات ترقی پذیر ممالک اے ا ئی کے لیے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی