یورپ کا بورڈ آف پیس میں شامل ہونے سے انکار، شہباز شریف قاتل نتین یاہو کے ساتھ مشاورت کررہے ہوں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
امیر جے یوآئی مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ یورپ و فرانس سمیت بہت سے ممالک نے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے سے انکار کردیا، ہمارے وزیر اعظم شہباز شریف اس قاتل نتین یاہو کے ساتھ بیٹھ کر امن پر مشاورت کررہے ہوں گے؟
قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں محمود خان اچکزئی کو مبارک باد دیتا ہوں کہ وہ اپوزیشن لیڈر بنے، محمود خان اچکزئی ایک تجربہ کار اور منجھے ہوئے سیاستدان ہیں، امید ہے حکومت نے سنجیدگی دکھائی تو اپوزیشن اور حکومت ملکر پاکستان کو مشاورت سے بہتر مستقبل دے سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج ٹرمپ کے پیس بورڈ پر بات کرنا بہت ضروری ہے، برطانیہ کی سرپرستی میں اسرائیل ریاست قائم کردی گئی، لیگ آف نیشنزکی رپورٹ میں بھی یہودیوں کو فلسطین میں آباد نہ کرنے کی تجویز دی گئی، لیگ آف نیشنزکی رپورٹ کو نظراندازکردیا گیا۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ لیگ آف نیشنزکو نظرانداز کرتے ہوئے یہودیوں کو فلسطین میں بسا دیا گیا، جس کے باعث مسئلہ فلسطین پیدا ہوا وہی اس کے منصف بن رہے ہیں، ستر ہزار لاشوں کے مرتکب نتین یاہو کو پیس بورڈ میں شامل کرلیا ہے، ٹرمپ خود ہی پیس بورڈ کا سربراہ بیٹھا ہے، ٹرمپ جس کو چاہے پیس بورڈ کا ممبر بنا دے جس کو چاہے نکال دے۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ہماری پالیسیاں عالمی دباؤ کے تحت بنتی ہیں، بانی پاکستان نے اسرائیل کے حوالے سے جو پالیسی 1940کی قرارداد میں دی، ہم کیوں اس پر بات نہیں کرتے، قائد اعظم نے اسرائیل کو ناجائز بچہ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ آج کے حکمران کیا قائد اعظم کی اسرائیل پالیسی کی سوچ بھی رکھتے ہیں؟ بانی پاکستان کے نام پر روٹیاں ٹکڑے کھانے والے کیا قائد اعظم کی اسرائیل کی پالیسی کے نزدیک سے بھی گزرتے ہیں، قاتلوں کے ہاتھوں امن کی امید اپنے اپکو بیوقوف بنانے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایوان اگرچہ عوام کا منتخب کردہ نہیں، پھر بھی یہ ایوان ہے تو سہی، بتایا جائے ایوان تو دور کی بات کیا کابینہ کو بھی اعتماد لیا گیا، ذوالفقار علی بھٹو اقوام متحدہ جارہے تھے تواس ایوان کا بھرپور اعتماد لیکر گئے، فلسطین جیسے ایمانی مسئلے پر قوم کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ کیا ٹرمپ اقوام متحدہ کے متبادل اپنی مرضی کا فورم نہیں بنا رہا، فلسطین میں ہم امن دینے جارہے ہیں اور اپنے ملک میں امن نہیں، اپنے ملک کے اضلاع کے اضلاع مسلح گروہوں کے پاس ہیں، اپنی فورسز اپنی پوسٹیں خالی کرکے مسلح گروہوں کے حوالے کررہی ہیں، ٹانک بنوں لکی مروت ڈی آئی خان سمیت کئی علاقوں میں ٹھیکیداروں سے بھتہ لیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے بجٹ میں تو لگتا ہے مسلح گروہوں کے بھتے کاحصہ رکھا جاتا ہے، اپنے ملک میں امن نہیں اور ہم ظلم کے ساتھ دینے فلسطین جارہے ہیں، بار بار یہاں اپنی وفاداری کا حلف دے چکا ہوں، ایک علاقہ جہاں 45سال سے خون بہہ رہا ہے وہاں کیا ہوگا، ہمیں بتایا جائے ہمارے دو صوبوں کے حوالے سے اپنے ارادے بتادو۔
انہوں نے کہا کہ یقین ہوگیا ہے بجٹ میں دس فیصد ان کا حصہ رکھ کر پاس کیا جاتا ہے، سرکاری افسر سرمایہ کار بھتہ دیکر اپنی زندگیاں محفوظ بنا رہے ہیں، یورپ و فرانس سمیت بہت سے ممالک نے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے سے انکار کردیا ہے، ہمارے وزیر اعظم شہباز شریف اس قاتل نتین یاہو کے ساتھ بیٹھ کر امن پر مشاورت کررہے ہوں گے؟
ان کا کہنا تھا کہ آج مغربی جمہوریت کی اصلیت آمریت ننگی ہوکر سامنے آرہی ہے، وینزویلا کے صدر اور اس کی بیوی کو اغوا کرنے والااغوا کار آج امن کا ٹھکیدار بن رہا ہے، آج ہمارے ملک میں آمریت دولت اور طاقت کا اتحاد ہوچکا ہے، عالمی سطح پر بھی آمریت طاقت اور دولت کا اتحاد ہوچکا ہے، ہمارے آئین کی کوئی حیثیت نہیں رہ گئی۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آج غیر اسلامی قانون سازی کرتے ہوئے بھی اسے جمہوری حق قرار دیا جاتا ہے، دو ترامیم عوام کو کمزور اور اپنی اتھارٹی حاصل کرنے کے لیے کی گئی ہیں، ہمارا نظام جمہوریت نہیں جبر کے تحت چل رہا ہے، عدالتی فیصلے سے جو دوتہائی اکثریت جبر سے بنائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ سود کے خاتمہ پر کوئی پیشرفت نہیں ہورہی، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات ایوان میں نہیں لائی گئیں، اٹھارہ سال سے کم عمری کی شادی کو زنا بالجبر قرار دیا جارہا ہے ۔
آٹھ فروری پھر آرہا ہے، آٹھ فروری کو بطور یوم سیاہ منایا جائے گا، ہم مفاہمت چاہتے ہیں مگر اسے روک دیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ترامیم میں حاصل استشنی واپس کرنا ہوگا، نہ یہ استشنی آئینی ہے نہ اسلامی ہے، ہمیں نتین یاہو کی موجودگی اور ٹرمپ کی صدارت میں پیس بورڈ میں شمولیت سے انکار کردیا چاہئے۔
مولانا فضل الرحمٰن کے خطاب کے بعد قومی اسمبلی اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمن ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ نتین یاہو سے انکار پیس بورڈ کے ساتھ جاتا ہے رہا ہے
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟