اٹھارویں ترمیم اتفاقِ رائے سے ہوئی، بہتری پر بات ہو سکتی ہے: رانا ثنااللہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم اتفاقِ رائے سے منظور کی گئی تھی، تاہم اگر تمام فریق دوبارہ متفق ہوں تو اس میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین میں اصلاح کا راستہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے اور اس حوالے سے حکومت کا مؤقف سنا جانا چاہیے۔
انہوں نے گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سانحے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ یہ طے کیا جائے کہ عمارت کی اضافی منزلوں کی منظوری کس نے دی، کب دی اور اس کی تعمیر کب ہوئی۔ رانا ثنااللہ کے مطابق اس معاملے میں مکمل احتساب ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کا 8 فروری کو ہونے والا احتجاج ناکام ہوگا۔
پی ٹی آئی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ماضی میں ہر ملاقات کو ریاست اور اداروں کے خلاف استعمال کیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اب ملاقاتوں کا واضح طریقہ کار طے کر دیا ہے۔ رانا ثنااللہ نے کہا کہ محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس جمہوریت پر یقین رکھنے والے رہنما ہیں، تاہم فی الحال مذاکرات کے فوری آغاز کا امکان نظر نہیں آتا۔
مشیر وزیراعظم نے زور دیا کہ ضلعی حکومتوں کو بااختیار بنانا آئینی تقاضا ہے، کیونکہ جب تک اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوں گے، عوام کے مسائل حل نہیں ہو سکیں گے۔
خواجہ آصف کے بیان سے متعلق انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں انہوں نے اپنی ذاتی رائے کا اظہار کیا تھا۔ ایوان میں کسی رکن کو اظہارِ خیال سے روکنا مناسب نہیں، اگر اختلاف ہو تو جواب دیا جائے۔ ان کے مطابق خواجہ آصف نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ان کا بیان پارٹی پالیسی ہے، اس لیے ذاتی رائے کو ذاتی ہی سمجھا جانا چاہیے۔
رانا ثنااللہ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اٹھارویں ترمیم اتفاقِ رائے سے ہوئی تھی، لیکن اگر بہتری کی ضرورت محسوس ہو تو اس پر بھی اتفاقِ رائے سے بات چیت کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم پر حکومت کا واضح مؤقف ہے اور اس پر سنجیدہ مکالمہ ہونا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رانا ثنااللہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)آزاد کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے بڑی سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔
صدر استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس اور مسلم کانفرنس کے صدر سردارعتیق کی ملاقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ آزاد کشمیر کے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کےبعد بھی مشترکہ حکمت عملی کےتحت آگےبڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔ طے پایا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی امیدواروں کی حمایت کا حتمی اعلان جلدکرے گی۔
لومئیربرادرز اپنی ایجاد پر بہت مسرور تھے، وہ جہاں بھی اپنا سینما لے کر جاتے لوگ ششدر رہ جاتے ، وہ یہ کھیل تماشہ لے کر ہندوستان بھی آئے تھے
دونوں قائدین نے مسلح افواج اوراداروں کی مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کی کوششوں کی تعریف کی۔ ملاقات میں آئی پی پی کی جانب سے سردار امتیاز،سردارافتخار رشید اور سردارمنظور ایڈووکیٹ موجود تھے۔ سردارمحمود خان، سردار شجاع منگول، شبدیزصابر سمیت دیگر آئی پی پی رہنما بھی شریک ہوئے۔ جبکہ مسلم کانفرنس کے سردارعثمان عتیق،ڈاکٹرعرفان اشرف،سردارعفان عتیق،راجاعبدالجبار اور دیگر نے شرکت کی۔
مزید :