جاپان میں دنیا کے سب سے بڑے نیوکلیئر بجلی گھر کی بحالی کا عمل ایک بار پھر روک دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
جاپان میں دنیا کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھر کی بحالی معطل کر دی گئی، جبکہ پلانٹ کے آپریٹر نے کہا ہے کہ فی الحال یہ واضح نہیں کہ مسئلہ کب تک حل ہوسکے گا۔
نیگاتا صوبے میں واقع کاشیوازاکی کاریوا نیوکلیئر پاور پلانٹ 2011 میں فوکوشیما جوہری حادثے کے بعد سے بند تھا، تاہم جوہری ریگولیٹر کی حتمی منظوری کے بعد بدھ کے روز اس کی بحالی کا عمل شروع کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: جاپان نے سونامی سے تباہ شدہ فوکوشیما نیوکلیئر پاور پلانٹ 15 سال بعد فعال کردیا
تاہم آپریٹر ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی کے مطابق جمعرات کو ری ایکٹر اسٹارٹ اپ کے دوران مانیٹرنگ سسٹم سے ایک الارم بجا، جس کے باعث کارروائیاں روک دی گئیں۔
سائٹ سپرنٹنڈنٹ تاکی یوکی اناگاکی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ مسئلہ ایک یا دو دن میں حل ہونے کی توقع نہیں، اور اس وقت یہ کہنا ممکن نہیں کہ اس میں کتنا وقت لگے گا۔ ان کے مطابق فی الحال تمام توجہ مسئلے کی اصل وجہ جاننے پر مرکوز ہے۔
کمپنی کے ترجمان کے مطابق الارم بجنے کے بعد برقی آلات میں خرابی کی تحقیقات شروع کی گئیں، اور جب واضح ہوا کہ اس میں وقت لگے گا تو منصوبہ بندی کے تحت کنٹرول راڈز دوبارہ ری ایکٹر میں داخل کر دیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ری ایکٹر مستحکم ہے اور پلانٹ کے باہر کسی قسم کے تابکار اثرات نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جاپان کے ایٹمی پروگرام کے افسر کا حساس معلومات پر مبنی اسمارٹ فون چین میں گم ہوگیا
کنٹرول راڈز ری ایکٹر کے اندر جوہری عمل کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جنہیں باہر نکالنے سے عمل تیز اور اندر داخل کرنے سے سست یا مکمل طور پر روک دیا جاتا ہے۔
پلانٹ کی بحالی کا عمل ابتدا میں منگل کے روز طے تھا، تاہم گزشتہ ہفتے کنٹرول راڈز کے اخراج سے متعلق ایک تکنیکی مسئلے کے باعث اسے مؤخر کر دیا گیا تھا، جو اتوار کو حل ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
کاشیوازاکی کاریوا ممکنہ پیداواری صلاحیت کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا جوہری بجلی گھر ہے، اگرچہ اس وقت اس کے 7 میں سے صرف ایک ری ایکٹر کو بحال کیا جا رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: جاپان میں زلزلے کے بعد سونامی کی وارننگ، 36 ہزار گھر انے بجلی سے محروم
یہ پلانٹ اس وقت بند کیا گیا تھا جب 2011 میں شدید زلزلے اور سونامی کے نتیجے میں فوکوشیما کے 3 ری ایکٹرز کو شدید نقصان پہنچا، جس کے بعد جاپان نے جوہری توانائی کا استعمال روک دیا تھا۔
تاہم وسائل کی کمی کا شکار جاپان اب ایٹمی توانائی کی بحالی چاہتا ہے تاکہ فوسل فیول پر انحصار کم کیا جا سکے، 2050 تک کاربن نیوٹرل اہداف حاصل کیے جا سکیں اور مصنوعی ذہانت سمیت بڑھتی توانائی کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
یہ 2011 کے بعد ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی کے زیر انتظام پہلا یونٹ ہے جسے دوبارہ چلانے کی کوشش کی گئی۔ یہی کمپنی فوکوشیما دائیچی پلانٹ بھی چلاتی ہے، جسے اس وقت مرحلہ وار بند کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روسی افواج کی دفاعی پوزیشن، یوکرینی نیوکلیئر پاور پلانٹ کی حفاظت خطرے میں
نیگاتا میں عوامی رائے منقسم ہے۔ ستمبر میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق تقریباً 60 فیصد رہائشی پلانٹ کی بحالی کے مخالف جبکہ 37 فیصد اس کے حامی ہیں۔
ایک 73 سالہ مقامی رہائشی نے احتجاج کے دوران کہا کہ یہاں خطرہ مول لیا جا رہا ہے جبکہ بجلی ٹوکیو کے لیے پیدا کی جاتی ہے، جو کسی طور درست نہیں۔
اس ماہ کے آغاز میں بحالی کی مخالفت کرنے والے 7 گروپس نے تقریباً 40 ہزار دستخطوں پر مشتمل درخواست جمع کرائی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ یہ پلانٹ ایک فعال زلزلہ فالٹ زون پر واقع ہے اور 2007 میں بھی ایک شدید زلزلے سے متاثر ہو چکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بجلی جاپان جوہری گھر معطل نیوکلیئر پاور پلانٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بجلی جاپان جوہری گھر نیوکلیئر پاور پلانٹ نیوکلیئر پاور پلانٹ یہ بھی پڑھیں اور پلانٹ کے مطابق ری ایکٹر کی بحالی گیا تھا کے بعد
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔