وادی تیراہ میں نقل مکانی کی ڈیڈ لائن میں دو روز کی توسیع
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
وادی تیراہ کے علاقے میدان سے نقل مکانی کی آخری تاریخ میں دو روز کی توسیع کر دی گئی ہے، جس کے مطابق متاثرہ خاندان اب 25 جنوری کے بجائے 27 جنوری تک اپنے گھروں کو خالی کر کے منتقل ہو سکیں گے۔ یہ فیصلہ جاری بارشوں کے باعث نقل مکانی میں پیدا ہونے والی مشکلات کے پیش نظر کیا گیا۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ارشاد مہمند نے بتایا کہ کئی خاندان رجسٹریشن پوائنٹ پر کلیئرنس کے انتظار میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتظار کرنے والے خاندان اپنے گھروں میں واپس جا سکتے ہیں اور جب بارشیں رکیں گی تو نقل مکانی اور رجسٹریشن کا عمل دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ موسمی حالات کی شدت کی وجہ سے متاثرین کے لیے نقل مکانی مزید مشکل ہو گئی تھی۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق وادی تیراہ میں دہشت گردوں کے خلاف ممکنہ آپریشن اور نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران تقریباً 10 ہزار خاندان نقل مکانی کر چکے ہیں۔ ہر خاندان کو ایڈوانس 2.
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شیڈول کے مطابق دو ماہ کے اندر فوجی آپریشن مکمل کر لیا جائے گا، اور 5 اپریل سے متاثرہ خاندانوں کی واپسی اور بحالی کا عمل شروع ہو گا۔ علاقہ میدان کی کل آبادی تقریباً 1 لاکھ 30 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ آپریشن کے دوران مکمل طور پر تباہ ہونے والے مکان کے لیے معاوضہ 30 لاکھ روپے جبکہ جزوی طور پر تباہ مکان کے لیے 10 لاکھ روپے مقرر کیے گئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نقل مکانی
پڑھیں:
دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
لاہور: دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔ فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھیواضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔