آئمہ مساجد کو اعزازیہ دینے کا معاملہ، 68 ہزار سے زائد آئمہ نے رجسٹریشن کروا لی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ حکومت پنجاب اعزازیہ پروگرام کی مد میں سالانہ 20 ارب روپے سے زائد رقم خرچ کرے گی۔ اب تک مجموعی طور پر 1 ارب 11 کروڑ روپے اعزازیہ کی مد میں آئمہ مساجد کو ادا کیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر آئمہ مساجد کو جنوری میں بذریعہ پے آرڈر اعزازیہ کی ادائیگی جاری ہے، جبکہ فروری سے آئمہ مساجد کو خصوصی اعزازیہ کارڈ کے ذریعے ادائیگی کی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ اعزازیہ پروگرام برائے امام مسجد صاحبان کیلئے خصوصی ڈیسک قائم کیا گیا ہے، صرف 10 روز میں کتنی رقم تقسیم کی گئی؟ اس حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب اعزازیہ پروگرام برائے امام مسجد صاحبان کا اہم سنگ میل عبور کر لیا گیا۔ حکومت پنجاب نے 10 روز میں 1 ارب روپے سے زائد کا اعزازیہ معزز امام مساجد تک پہنچا دیا۔ پنجاب میں اب تک 68 ہزار سے زائد آئمہ مساجد رضاکارانہ طور پر رجسٹریشن کروا چکے ہیں، جنہیں 25 ہزار روپے ماہانہ اعزازیہ کی تقسیم کیلئے پنجاب بھر کے اسسٹنٹ کمشنرز دفاتر میں خصوصی ڈیسک قائم ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے آئمہ مساجد اعزازیہ پروگرام کے تحت 1 ارب روپے سے زائد رقم کی تقسیم مکمل ہونے پر کیا۔
سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ حکومت پنجاب اعزازیہ پروگرام کی مد میں سالانہ 20 ارب روپے سے زائد رقم خرچ کرے گی۔ اب تک مجموعی طور پر 1 ارب 11 کروڑ روپے اعزازیہ کی مد میں آئمہ مساجد کو ادا کیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر آئمہ مساجد کو جنوری میں بذریعہ پے آرڈر اعزازیہ کی ادائیگی جاری ہے، جبکہ فروری سے آئمہ مساجد کو خصوصی اعزازیہ کارڈ کے ذریعے ادائیگی کی جائے گی۔ سیکرٹری داخلہ پنجاب نے بتایا کہ اعزازیہ کی فراہمی کے دوران امام مسجد صاحبان کی عزت و تکریم کا مکمل خیال رکھا جا رہا ہے اور اعزازیہ کی ادائیگی کا نظام آسان، شفاف اور جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے، اب تک جو امام مسجد صاحبان اعزازیہ پروگرام کیلئے رجسٹریشن نہیں کروا سکے، ان کی رجسٹریشن کا عمل بھی مستقل جاری ہے، آئمہ مساجد صاحبان رضاکارانہ طور پر اپنے قریبی اسسٹنٹ کمشنر آفس میں اعزازیہ پروگرام کیلئے رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اعزازیہ پروگرام کی ارب روپے سے زائد سیکرٹری داخلہ آئمہ مساجد کو اعزازیہ کی کی مد میں
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔