وزیراعظم شہباز شریف سمیت غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ممالک کے رہنماوں نے مسودے پر دستخط کردیئے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف سمیت غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ممالک کے رہنماوں نے مسودے پر دستخط کردیئے WhatsAppFacebookTwitter 0 22 January, 2026 سب نیوز
ڈیووس (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم شہبازشریف سمیت غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ممالک کے رہنماوں نے مسودے پر دستخط کردیئے۔
ڈیووس میں غزہ بورڈ آف پیس کے مسودے پر دستخط کی تقریب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، وزیراعظم شہبازشریف، سعودی عرب اور ترکیہ کے رہنماوں نے غزہ بورڈ آف پیس کے مسودے پر دستخط کردیئے۔اردن اور قازقستان کے رہنماوں نے بورڈ آف پیس پر دستخط کردیئے، یواے ای اور ازبکستان نے غزہ بورڈ آف پیس کے مسودے پر دستخط کردیئے۔ منگولیا، پیراگوائے اور قطر کے رہنماوں نے غزہ بورڈ آف پیس کے مسودے پر دستخط کردیئے۔
انڈونیشیا اور ہنگری کے رہنماوں نے بورڈ آف پیس پر دستخط کردیئے، بلغاریہ اور ازبکستان کے رہنماوں نے بورڈ آف پیس پر دستخط کردیئے۔ ارجنٹائن اور آرمینیا کے رہنماوںنے غزہ بورڈ آف پیس پر دستخط کردیئے۔تقریب سے خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ غزہ بورڈ آف پیس کا مقصد جنگ بندی معاہدے کو پائیدار بنانا ہے، غزہ بورڈ آف پیس غزہ میں امداد کی فراہمی یقینی بنائے گا، غزہ بورڈ آف پیس میں دنیا کے ٹاپ لیڈر ہیں، غزہ امن بورڈ میں بہت سے لوگ شامل ہونا چاہتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ غزہ میں جاری جنگ ختم ہونے کوہے، حماس نے غیرمسلح ہونے کا وعدہ کیا ہے، حماس کے لوگوں نے بچن سے ہی ہتھیار اٹھایا ہے، اگر حماس نے ہتھیار نہ پھینکے تو انہیں تباہ کردیا جائے گا۔ اقوام متحدہ میں بہت اچھے لوگ موجود ہیں،ان میں صلاحیت بھی ہے، میں نے دنیا میں 8جنگیں بند کرائی لیکن اقوام متحدہ نے کوئی کردار ادا نہیں کیا، سمجھتے تھے یوکرین کا معاہدہ آسان ہوگالیکن وہ سب سے مشکل نکلا۔امریکی صدر نے کہا کہ میں نے پاک بھارت جنگ بند کرائی، پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں تھیں ، وزیراعظم پاکستان نے کہا میں نے لاکھوں لوگوں کی جانیں بچائیں، ہم نے بہت سے ناممکن کام کئے۔ ہماری پوری ٹیم نے مشرق وسطی میں امن کیلئے کام کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستانی ہائی کمشنر محمد سلیم کی کینڈین پارلیمانی رہنماوں سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ پاکستانی ہائی کمشنر محمد سلیم کی کینڈین پارلیمانی رہنماوں سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ وفاقی وزیر حنیف عباسی سے قازقستان کے سفیر کی ملاقات ، ریلوے کنیکٹیوٹی پر تبادلہ خیال رومانیا کے سفیر ڈان سٹوئنزکو کی سپیریئر یونیورسٹی کے وفد سے ملاقات ،اکیڈمک تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال چین پاکستان اقتصادی راہداری کو اپ گریڈ کرنے کا وقت آ گیا رومانیہ کے سفیر کا اسلام آباد چیمبر آف کامرس کا دورہ ، بزنس کمیونٹی سے ملاقات این اے 85: الیکشن کمیشن نے قادر خان کی نااہلی کی درخواست مسترد کر دیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: غزہ بورڈ آف پیس کے مسودے پر دستخط بورڈ آف پیس پر دستخط کردیئے غزہ بورڈ آف پیس میں نے غزہ بورڈ آف پیس کے رہنماوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات نے کہا
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقاتاٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع
دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہسرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔
پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورکپاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔
اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیںرپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاریملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین