امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ ختم ہونے کے قریب ہے اور حماس کو ہتھیار ڈالنے ہوں گے، ورنہ اس کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔
یہ بیان انہوں نے ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کے موقع پر بورڈ آف پیس معاہدے پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے اقدامات جاری ہیں اور امن کوششوں کی کامیابی پر وہ پُرامید ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ غزہ امن بورڈ میں شمولیت کے لیے متعدد ممالک نے دلچسپی ظاہر کی ہے اور وہ اس پر شکر گزار ہیں۔
ٹرمپ نے اپنی تقریر میں کہا:ہم نے ناممکن اور بڑے کام کیے ہیں۔ میں نے دس ماہ کے دوران 8 جنگیں ختم کروائیں، پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ جنگ کو روکا، اور کئی دیگر تنازعات کو ختم کروایا جس سے دنیا زیادہ محفوظ ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر ملک بورڈ آف پیس کا حصہ بننا چاہتا ہے اور اقوام متحدہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔ ٹرمپ نے شام کے صدر سے بات کی اور شام پر عائد پابندیاں ہٹانے کی بھی بات کی۔
امریکی صدر نے ایران کے ساتھ بات چیت کی تیاری کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ ایران بات کرنا چاہتا ہے، اور وہ اس پر آمادہ ہیں۔
تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ارجنٹائن، آرمینیا، آذربائیجان، بلغاریہ، ہنگری، انڈونیشیا، قازقستان، پاکستان، کوسوو، پیراگوئے، قطر، سعودی عرب اور ترکی کے رہنماؤں نے بھی بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کیے۔
ٹرمپ نے دستخط کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا اور بورڈ آف پیس میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے اہم کردار کو بھی سراہا۔
یہ اقدام عالمی سطح پر امن قائم رکھنے اور تنازعات کم کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بورڈ ا ف پیس

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل