ڈونلڈ ٹرمپ: حماس کو ہتھیار ڈالنے ہوں گے، ورنہ اس کا خاتمہ ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ ختم ہونے کے قریب ہے اور حماس کو ہتھیار ڈالنے ہوں گے، ورنہ اس کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔
یہ بیان انہوں نے ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کے موقع پر بورڈ آف پیس معاہدے پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے اقدامات جاری ہیں اور امن کوششوں کی کامیابی پر وہ پُرامید ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ غزہ امن بورڈ میں شمولیت کے لیے متعدد ممالک نے دلچسپی ظاہر کی ہے اور وہ اس پر شکر گزار ہیں۔
ٹرمپ نے اپنی تقریر میں کہا:ہم نے ناممکن اور بڑے کام کیے ہیں۔ میں نے دس ماہ کے دوران 8 جنگیں ختم کروائیں، پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ جنگ کو روکا، اور کئی دیگر تنازعات کو ختم کروایا جس سے دنیا زیادہ محفوظ ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر ملک بورڈ آف پیس کا حصہ بننا چاہتا ہے اور اقوام متحدہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔ ٹرمپ نے شام کے صدر سے بات کی اور شام پر عائد پابندیاں ہٹانے کی بھی بات کی۔
امریکی صدر نے ایران کے ساتھ بات چیت کی تیاری کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ ایران بات کرنا چاہتا ہے، اور وہ اس پر آمادہ ہیں۔
تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ارجنٹائن، آرمینیا، آذربائیجان، بلغاریہ، ہنگری، انڈونیشیا، قازقستان، پاکستان، کوسوو، پیراگوئے، قطر، سعودی عرب اور ترکی کے رہنماؤں نے بھی بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کیے۔
ٹرمپ نے دستخط کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا اور بورڈ آف پیس میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے اہم کردار کو بھی سراہا۔
یہ اقدام عالمی سطح پر امن قائم رکھنے اور تنازعات کم کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بورڈ ا ف پیس
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔