Islam Times:
2026-06-02@22:13:27 GMT

غزہ بورڈ آف پیس: پاکستان اور اسرائیل ایک میز پر ہوں گے؟

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT

غزہ بورڈ آف پیس: پاکستان اور اسرائیل ایک میز پر ہوں گے؟

اسلام ٹائمز: پاکستان کی اس منصوبہ میں شمولیت نے پاکستان کے عوام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کہ اب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فلسطینی عوام کے قاتل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ایک میز پر بیٹھ کر فلسطین کے لئے امن کی بات کریں گے۔ حالانکہ نیتن یاہو تو دوٹوک انداز میں اعلان کرچکا ہے کہ غزہ امن بورڈ کے تمام اراکین کو نیتن یاہو کی بات ماننا ہوگی۔ پاکستان کے عوام کو یہ بھی تشویش لاحق ہے کہ نیتن یاہو کو ترکیہ کی افواج غزہ میں تعینات کرنے پر اعتراض ہے لیکن پاکستان کی افواج کی غزہ میں تعیناتی پر کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں، اس معاملہ نے پاکستان کے سیاسی و مذہبی اور تدریسی حلقوں میں بے چینی کو جنم دیا ہے۔ تحریر: ڈاکٹر صابر ابومریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

غزہ جنگ بندی کے عنوان سے دوسرے مرحلہ میں امریکی صدر ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس متعارف کروایا ہے۔ اس بورڈ میں پاکستان سمیت دیگر سات ممالک نے بھی شمولیت اختیار کرلی ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کو خود امریکی صدر ٹرمپ نے اس بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی اور پاکستان نے شمولیت کا فیصلہ کر لیا ہے۔ دیگر مسلمان ممالک میں مصر، سعودی عرب، انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات، مراکش، اردن اور ترکی شامل ہیں۔ اس تازہ ترین پیش رفت کے بعد مغربی دنیا کے ماہرین سیاسیات کا کہنا ہے کہ ٹرمپ غزہ بورڈ آف پیس کی آڑ میں دنیا میں اقوام متحدہ کے مقابلہ پر ایک نیا نظام متعارف کروانے کی کوشش کر رہے ہیں تا کہ دنیا میں تمام معاملات میں امریکی صدر کی من مانی چلتی رہے۔

جہاں تک پاکستان کی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا سوال ہے تو حکومت نے ٹرمپ کی خوشنودی کی خاطر اس بورڈ میں شمولیت کا اعلان کردیا ہے لیکن نہ تو حکومت نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اس موضوع پر کوئی بحث کی اور نہ ہی کسی سے مشاورت کرنا گوارا کیا، بلکہ ایک سولو فیصلہ کے ذریعہ امریکہ کے صدر کو خوش کرنے کی کوشش کی۔ دوسری طرف پاکستان بھر میں عوام، صحافیوں، وکلاء، سیاستدانوں اور دانشوروںسمیت تمام طبقات نے حکومت پاکستان کی غزہ پیس پورڈ میں شمولیت کو مسترد کر دیا ہے۔ پاکستان کے عوام کا واضح اور دو ٹوک موقف ہے کہ امریکی سربراہی میں کسی بھی ایسے فورم میں شرکت کرنا فلسطینی عوام کے ساتھ خیانت ہے۔ البتہ کچھ حکومتی پے رول پر کام کرنے والے صحافی اور افراد حکومت کے اس غلط فیصلہ کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔

غزہ امن بورڈ حقیقت میں ایک ایسا اقدام ہے جس میں امن کے نام کو استعمال کیا گیا ہے لیکن یہ ایک ایسا امن ہے جو فلسطین میںفلسطینیوں کے بغیر ہوگا۔ جس طرح بتایا گیا ہے کہ یہ گذشتہ سال غزہ جنگ بندی معاہد ے کا ہی دوسرا دور ہے لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ پہلے دور میں بھی جنگ بندی کی کوئی عملی شکل سامنے نہیں آنے پائی تھی۔ اسرائیل کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیاں کی گئی ہیں اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ بمباری جاری ہے، قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے، انسانی بحران پہلے سے زیادہ سنگین ہو چکا ہے، اگلا ایجنڈا اب فلسطین کی مزاحمتی قوتوں بالخصوص حماس کو غیر مسلح کرنے کا ہے۔ یعنی امن کے نام پر مزاحمت کو ختم کرنے کا منصوبہ۔

اس بارے میں ٹرمپ نے اکیس جنوری کو اپنے خطاب میں واضح اعلان کیا ہے کہ غزہ امن بورڈ نامی فورم میں دنیا کے 59 ممالک شامل ہو چکے ہیں اور یہ سب غزہ میں حماس کو ختم کرنے اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف لڑنے کے لئے تیار ہیں۔ مسلمان ممالک کی افواج کی ترجمانی ٹرمپ کررہاہے اور بتا رہا ہے کہ دنیا بھر کی اور مسلمان ممالک کی افواج غزہ سمیت لبنان میں مزاحمت کے خاتمہ کے لئے جائیں گے۔ دوسری طرف اسحاق دار پاکستان کےعوام کو ہمیشہ کی طرح توڑ مروڑ کر یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہم غزہ میں حماس کے خلاف نہیں جائیں گے لیکن حقیقت بر عکس ہے شمولیت کی جا چکی ہے اور اب چار ہزار فوجی بھیجے جائیں گےکیونکہ اس امن بورڈ کا حصہ ہے۔

پاکستان کی اس منصوبہ میں شمولیت نے پاکستان کے عوام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کہ اب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فلسطینی عوام کے قاتل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ایک میز پر بیٹھ کر فلسطین کے لئے امن کی بات کریں گے۔ حالانکہ نیتن یاہو تو دوٹوک انداز میں اعلان کرچکا ہے کہ غزہ امن بورڈ کے تمام اراکین کو نیتن یاہو کی بات ماننا ہوگی۔ پاکستان کے عوام کو یہ بھی تشویش لاحق ہے کہ نیتن یاہو کو ترکیہ کی افواج غزہ میں تعینات کرنے پر اعتراض ہے لیکن پاکستان کی افواج کی غزہ میں تعیناتی پر کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں، اس معاملہ نے پاکستان کے سیاسی و مذہبی اور تدریسی حلقوں میں بے چینی کو جنم دیا ہے۔

حکومت پاکستان نے عوام کو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ موقف اختیار کر لیا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت غزہ امن بورڈ میں شمولیت اختیار کر رہا ہے لیکن عوام آج کل اتنے بھی سادہ نہیں ہیں جتنا ان کو سمجھا جا رہاہے۔ اگر حکومت کی یہ بات مان لی جائے تو کیا اسی عالمی فورم سے تعلق رکھنے والی ایک عالمی عدالت ICC نے نیتن یاہو کے گرفتاری کے وارنٹ جاری نہیں کئے ہوئے؟ کیا پاکستان کا وزیر اعظم ایک ایسی میز پر ایسے شخص کے ساتھ بیٹھے گا جو عالمی عدالت انصاف کو مطلوب ہے اور جس پر ہزاروں فلسطینیوں کے قتل کا مقدمہ ہے۔ اگر حکومت پاکستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی پاسداری کا اتنا ہی خیال ہے تو اس قرارداد سے قبل عالمی عدالت انصاف کے فیصلہ پر بھی عمل کرنے کے لئے کوئی اقدامات انجام دینے چاہئیں۔

اب اگر پاکستان کا وزیر اعظم اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ اس غزہ امن معاہدے کی میز پر بیٹھ جاتا ہے تو پھر سوال یہ بھی ہوگا کہ نظریہ پاکستان کا کیا کریں؟ قائداعظم محمد علی جناح کے افکار اور نظریات کو کتابوں سے حذف کر دیں کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے؟ پاکستان کے فلسطین پر اصولی موقف کو کیا سمجھا جائے؟ کشمیر میں حق خود ارادیت کی تحریک اور حمایت کو لپیٹ دیا گیا یہ سمجھا جائے؟ ایسے درجنوں سوالات صرف اور صرف اس لئے جنم لے رہے ہیں کیونکہ پاکستان نے امریکی سرپرستی میں غزہ امن معاہدے میں شمولیت کا ایک تاریخی غلط فیصلہ کر لیا ہے اور پاکستان کے عوام اس فیصلہ کے خلاف ہیں۔

غزہ امن بورڈ میں پاکستان اور دیگر سات مسلمان ممالک نے شمولیت تو اختیار کر لی ہے لیکن اس بورڈ میں ان سب کی حیثیت کو ایک غلام کی حیثیت دی گئی ہے کیونکہ بورڈ کی ایگزیکٹیو باڈی سارے فیصلے کرے گی اور اراکین کو اس پر عمل درآمد کرنا ہوگا، پاکستان سمیت دیگر سات ممالک اس میں اراکین کی حیثیت سے ہیں۔ٹرمپ جو کہ خود اس بورڈ کے چیئرمین بن چکے ہیں انہوں نے قاتلوں کا ایک ٹولہ جس میں سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر، داماد جیرڈ کوشنر، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، امریکی ایلچی اسٹیو ویٹکوف اور اجے بنگا سمیت کچھ اور امریکیوں کو رکھا ہے۔ یعنی فلسطین کے مستبقل کے فیصلوں کو غیر فلسطینی کمیٹی انجام دے گی۔

غزہ امن بورڈ میں روس کے صدر پیوٹن کو بھی دعوت دی گئی ہے لیکن انہوںنے اس بورڈ میں شمولیت کو مسترد کیا اور کہا کہ ہم فلسطینیوں کے حقوق کا دفاع چاہتے ہیں نہ کہ ان کے خلاف فیصلہ جات، یعنی روسی صدر نے ایسا موقف اپنایا ہے جس کی توقع ہمیں مسلمان ممالک سے کرنا چاہئیے تھی۔ ترکیہ کا کردار بھی سوالیہ نشان اور ہتک آمیز ہے۔ ایک طرف ترکیہ نے امریکی دعوت کو قبول کرکے شمولیت کی ہے دوسری طرف اسرائیل کا ترکی پر دبائو ہے کہ اپنی افواج غزہ نہ بھیجے۔ یورپی ممالک نے بھی ٹرمپ کی دعوت کو قبول نہیں کیا ہے۔ فرانس کے صدر میکرون نے بھی اس نام نہاد امن بورڈ کی مخالفت کی ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ اس ساری صورتحال میں ٹرمپ اس بورڈ کو غزہ تک محدود نہیں رکھنا چاہتے بلکہ عالمی تنازعات میں ہر جگہ اس بورڈ کو استعمال کرنا چاہتے ہیں اور تمام فیصلے اپنی من مانی سے کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ کے ان اقدامات سے عالمی سطح پر خدشات بڑھ رہے ہیں کیونکہ یہ امن نہیں بلکہ طاقت اور بدمعاشی کا تسلسل ہے کہ جس کی بنیاد پر کمزور اور متوسط ممالک پر اپنی اجارہ داری کو از سر نو قائم کیا جائے۔ سب سے بڑا اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایک ایسے فورم میں بیٹھ کر غزہ کی بات کرے گا جہاں قاتل نیتن یاہو بھی ساتھ بیٹھا ہوگا۔

یعنی اس کا مطلب فلسطینی عوام کے قاتل فیصلہ ساز ہوں گے اور فلسطین اس تصویر سے مکمل طور پر غائب ہوگا ؟تاریخ میں ہمیشہ درست اور غللط دونوں فیصلہ کرنے والوں کو یاد رکھا جاتا ہے۔ اب حکومت پاکستان پر منحصر ہے کہ وہ خود کو تاریخ کے درست سمت میں رکھتی ہے یا پھر غلط سمت میں جا کر قاتل اور سفاک ٹولہ کی سہولت کاری کرتی ہے۔ اگر حکومت پاکستان نے ظالم اور سفاک ٹولہ کا ساتھ دیا تو پھر پاکستان کی بنتی ہوئی ساکھ بھی بری طرح متاثر ہوگی جو گذشہ چند ماہ میں عروج حاصل کر رہی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پاکستان کے عوام کو غزہ بورڈ ا ف پیس فلسطینی عوام کے بورڈ میں شمولیت حکومت پاکستان نے پاکستان کے مسلمان ممالک کے وزیر اعظم کہ نیتن یاہو پاکستان کی پاکستان نے اختیار کر شمولیت کا افواج غزہ کی افواج کے خلاف رہے ہیں ہے لیکن کی بات کے لئے نے بھی ہے اور کی غزہ دیا ہے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان