غزہ بورڈ آف پیس: پاکستان اور اسرائیل ایک میز پر ہوں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: پاکستان کی اس منصوبہ میں شمولیت نے پاکستان کے عوام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کہ اب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فلسطینی عوام کے قاتل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ایک میز پر بیٹھ کر فلسطین کے لئے امن کی بات کریں گے۔ حالانکہ نیتن یاہو تو دوٹوک انداز میں اعلان کرچکا ہے کہ غزہ امن بورڈ کے تمام اراکین کو نیتن یاہو کی بات ماننا ہوگی۔ پاکستان کے عوام کو یہ بھی تشویش لاحق ہے کہ نیتن یاہو کو ترکیہ کی افواج غزہ میں تعینات کرنے پر اعتراض ہے لیکن پاکستان کی افواج کی غزہ میں تعیناتی پر کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں، اس معاملہ نے پاکستان کے سیاسی و مذہبی اور تدریسی حلقوں میں بے چینی کو جنم دیا ہے۔ تحریر: ڈاکٹر صابر ابومریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
غزہ جنگ بندی کے عنوان سے دوسرے مرحلہ میں امریکی صدر ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس متعارف کروایا ہے۔ اس بورڈ میں پاکستان سمیت دیگر سات ممالک نے بھی شمولیت اختیار کرلی ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کو خود امریکی صدر ٹرمپ نے اس بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی اور پاکستان نے شمولیت کا فیصلہ کر لیا ہے۔ دیگر مسلمان ممالک میں مصر، سعودی عرب، انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات، مراکش، اردن اور ترکی شامل ہیں۔ اس تازہ ترین پیش رفت کے بعد مغربی دنیا کے ماہرین سیاسیات کا کہنا ہے کہ ٹرمپ غزہ بورڈ آف پیس کی آڑ میں دنیا میں اقوام متحدہ کے مقابلہ پر ایک نیا نظام متعارف کروانے کی کوشش کر رہے ہیں تا کہ دنیا میں تمام معاملات میں امریکی صدر کی من مانی چلتی رہے۔
جہاں تک پاکستان کی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا سوال ہے تو حکومت نے ٹرمپ کی خوشنودی کی خاطر اس بورڈ میں شمولیت کا اعلان کردیا ہے لیکن نہ تو حکومت نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اس موضوع پر کوئی بحث کی اور نہ ہی کسی سے مشاورت کرنا گوارا کیا، بلکہ ایک سولو فیصلہ کے ذریعہ امریکہ کے صدر کو خوش کرنے کی کوشش کی۔ دوسری طرف پاکستان بھر میں عوام، صحافیوں، وکلاء، سیاستدانوں اور دانشوروںسمیت تمام طبقات نے حکومت پاکستان کی غزہ پیس پورڈ میں شمولیت کو مسترد کر دیا ہے۔ پاکستان کے عوام کا واضح اور دو ٹوک موقف ہے کہ امریکی سربراہی میں کسی بھی ایسے فورم میں شرکت کرنا فلسطینی عوام کے ساتھ خیانت ہے۔ البتہ کچھ حکومتی پے رول پر کام کرنے والے صحافی اور افراد حکومت کے اس غلط فیصلہ کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
غزہ امن بورڈ حقیقت میں ایک ایسا اقدام ہے جس میں امن کے نام کو استعمال کیا گیا ہے لیکن یہ ایک ایسا امن ہے جو فلسطین میںفلسطینیوں کے بغیر ہوگا۔ جس طرح بتایا گیا ہے کہ یہ گذشتہ سال غزہ جنگ بندی معاہد ے کا ہی دوسرا دور ہے لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ پہلے دور میں بھی جنگ بندی کی کوئی عملی شکل سامنے نہیں آنے پائی تھی۔ اسرائیل کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیاں کی گئی ہیں اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ بمباری جاری ہے، قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے، انسانی بحران پہلے سے زیادہ سنگین ہو چکا ہے، اگلا ایجنڈا اب فلسطین کی مزاحمتی قوتوں بالخصوص حماس کو غیر مسلح کرنے کا ہے۔ یعنی امن کے نام پر مزاحمت کو ختم کرنے کا منصوبہ۔
اس بارے میں ٹرمپ نے اکیس جنوری کو اپنے خطاب میں واضح اعلان کیا ہے کہ غزہ امن بورڈ نامی فورم میں دنیا کے 59 ممالک شامل ہو چکے ہیں اور یہ سب غزہ میں حماس کو ختم کرنے اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف لڑنے کے لئے تیار ہیں۔ مسلمان ممالک کی افواج کی ترجمانی ٹرمپ کررہاہے اور بتا رہا ہے کہ دنیا بھر کی اور مسلمان ممالک کی افواج غزہ سمیت لبنان میں مزاحمت کے خاتمہ کے لئے جائیں گے۔ دوسری طرف اسحاق دار پاکستان کےعوام کو ہمیشہ کی طرح توڑ مروڑ کر یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہم غزہ میں حماس کے خلاف نہیں جائیں گے لیکن حقیقت بر عکس ہے شمولیت کی جا چکی ہے اور اب چار ہزار فوجی بھیجے جائیں گےکیونکہ اس امن بورڈ کا حصہ ہے۔
پاکستان کی اس منصوبہ میں شمولیت نے پاکستان کے عوام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کہ اب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فلسطینی عوام کے قاتل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ایک میز پر بیٹھ کر فلسطین کے لئے امن کی بات کریں گے۔ حالانکہ نیتن یاہو تو دوٹوک انداز میں اعلان کرچکا ہے کہ غزہ امن بورڈ کے تمام اراکین کو نیتن یاہو کی بات ماننا ہوگی۔ پاکستان کے عوام کو یہ بھی تشویش لاحق ہے کہ نیتن یاہو کو ترکیہ کی افواج غزہ میں تعینات کرنے پر اعتراض ہے لیکن پاکستان کی افواج کی غزہ میں تعیناتی پر کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں، اس معاملہ نے پاکستان کے سیاسی و مذہبی اور تدریسی حلقوں میں بے چینی کو جنم دیا ہے۔
حکومت پاکستان نے عوام کو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ موقف اختیار کر لیا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت غزہ امن بورڈ میں شمولیت اختیار کر رہا ہے لیکن عوام آج کل اتنے بھی سادہ نہیں ہیں جتنا ان کو سمجھا جا رہاہے۔ اگر حکومت کی یہ بات مان لی جائے تو کیا اسی عالمی فورم سے تعلق رکھنے والی ایک عالمی عدالت ICC نے نیتن یاہو کے گرفتاری کے وارنٹ جاری نہیں کئے ہوئے؟ کیا پاکستان کا وزیر اعظم ایک ایسی میز پر ایسے شخص کے ساتھ بیٹھے گا جو عالمی عدالت انصاف کو مطلوب ہے اور جس پر ہزاروں فلسطینیوں کے قتل کا مقدمہ ہے۔ اگر حکومت پاکستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی پاسداری کا اتنا ہی خیال ہے تو اس قرارداد سے قبل عالمی عدالت انصاف کے فیصلہ پر بھی عمل کرنے کے لئے کوئی اقدامات انجام دینے چاہئیں۔
اب اگر پاکستان کا وزیر اعظم اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ اس غزہ امن معاہدے کی میز پر بیٹھ جاتا ہے تو پھر سوال یہ بھی ہوگا کہ نظریہ پاکستان کا کیا کریں؟ قائداعظم محمد علی جناح کے افکار اور نظریات کو کتابوں سے حذف کر دیں کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے؟ پاکستان کے فلسطین پر اصولی موقف کو کیا سمجھا جائے؟ کشمیر میں حق خود ارادیت کی تحریک اور حمایت کو لپیٹ دیا گیا یہ سمجھا جائے؟ ایسے درجنوں سوالات صرف اور صرف اس لئے جنم لے رہے ہیں کیونکہ پاکستان نے امریکی سرپرستی میں غزہ امن معاہدے میں شمولیت کا ایک تاریخی غلط فیصلہ کر لیا ہے اور پاکستان کے عوام اس فیصلہ کے خلاف ہیں۔
غزہ امن بورڈ میں پاکستان اور دیگر سات مسلمان ممالک نے شمولیت تو اختیار کر لی ہے لیکن اس بورڈ میں ان سب کی حیثیت کو ایک غلام کی حیثیت دی گئی ہے کیونکہ بورڈ کی ایگزیکٹیو باڈی سارے فیصلے کرے گی اور اراکین کو اس پر عمل درآمد کرنا ہوگا، پاکستان سمیت دیگر سات ممالک اس میں اراکین کی حیثیت سے ہیں۔ٹرمپ جو کہ خود اس بورڈ کے چیئرمین بن چکے ہیں انہوں نے قاتلوں کا ایک ٹولہ جس میں سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر، داماد جیرڈ کوشنر، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، امریکی ایلچی اسٹیو ویٹکوف اور اجے بنگا سمیت کچھ اور امریکیوں کو رکھا ہے۔ یعنی فلسطین کے مستبقل کے فیصلوں کو غیر فلسطینی کمیٹی انجام دے گی۔
غزہ امن بورڈ میں روس کے صدر پیوٹن کو بھی دعوت دی گئی ہے لیکن انہوںنے اس بورڈ میں شمولیت کو مسترد کیا اور کہا کہ ہم فلسطینیوں کے حقوق کا دفاع چاہتے ہیں نہ کہ ان کے خلاف فیصلہ جات، یعنی روسی صدر نے ایسا موقف اپنایا ہے جس کی توقع ہمیں مسلمان ممالک سے کرنا چاہئیے تھی۔ ترکیہ کا کردار بھی سوالیہ نشان اور ہتک آمیز ہے۔ ایک طرف ترکیہ نے امریکی دعوت کو قبول کرکے شمولیت کی ہے دوسری طرف اسرائیل کا ترکی پر دبائو ہے کہ اپنی افواج غزہ نہ بھیجے۔ یورپی ممالک نے بھی ٹرمپ کی دعوت کو قبول نہیں کیا ہے۔ فرانس کے صدر میکرون نے بھی اس نام نہاد امن بورڈ کی مخالفت کی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس ساری صورتحال میں ٹرمپ اس بورڈ کو غزہ تک محدود نہیں رکھنا چاہتے بلکہ عالمی تنازعات میں ہر جگہ اس بورڈ کو استعمال کرنا چاہتے ہیں اور تمام فیصلے اپنی من مانی سے کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ کے ان اقدامات سے عالمی سطح پر خدشات بڑھ رہے ہیں کیونکہ یہ امن نہیں بلکہ طاقت اور بدمعاشی کا تسلسل ہے کہ جس کی بنیاد پر کمزور اور متوسط ممالک پر اپنی اجارہ داری کو از سر نو قائم کیا جائے۔ سب سے بڑا اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایک ایسے فورم میں بیٹھ کر غزہ کی بات کرے گا جہاں قاتل نیتن یاہو بھی ساتھ بیٹھا ہوگا۔
یعنی اس کا مطلب فلسطینی عوام کے قاتل فیصلہ ساز ہوں گے اور فلسطین اس تصویر سے مکمل طور پر غائب ہوگا ؟تاریخ میں ہمیشہ درست اور غللط دونوں فیصلہ کرنے والوں کو یاد رکھا جاتا ہے۔ اب حکومت پاکستان پر منحصر ہے کہ وہ خود کو تاریخ کے درست سمت میں رکھتی ہے یا پھر غلط سمت میں جا کر قاتل اور سفاک ٹولہ کی سہولت کاری کرتی ہے۔ اگر حکومت پاکستان نے ظالم اور سفاک ٹولہ کا ساتھ دیا تو پھر پاکستان کی بنتی ہوئی ساکھ بھی بری طرح متاثر ہوگی جو گذشہ چند ماہ میں عروج حاصل کر رہی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان کے عوام کو غزہ بورڈ ا ف پیس فلسطینی عوام کے بورڈ میں شمولیت حکومت پاکستان نے پاکستان کے مسلمان ممالک کے وزیر اعظم کہ نیتن یاہو پاکستان کی پاکستان نے اختیار کر شمولیت کا افواج غزہ کی افواج کے خلاف رہے ہیں ہے لیکن کی بات کے لئے نے بھی ہے اور کی غزہ دیا ہے
پڑھیں:
رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ وزیراعظم پاکستان ہی آزاد کشمیر کا وزیراعظم منتخب کرے۔آزاد کشمیر کے علاقے میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے ایک بار پھر حق حکمرانی، مالکیت اور حق روزگار کا انتخابی ایجنڈا دہراتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیریوں نے انتخابات میں ووٹ دے کر اکثریت دلوائی تو یہ تینوں مسائل حل کردیں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر میں گزشتہ چھ ماہ سے ہماری حکومت ہے اور یہاں پر جو کام کیے اُن پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی بات کرنے والوں کو پنجاب کی سڑکیں ہی ٹھیک لگتی ہیں اور کہتے ہیں کہ صوبے سے نکلتے ہی سڑکیں خراب ہیں۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ رائیونڈ کو پنجاب سمجھتے ہیں کیونکہ اندرون صوبے کی حالت بہت بری ہے اور انہیں اس کی کوئی پرواہ بھی نہیں ہے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ اب یہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کا فیصلہ اسلام آباد سے ہو اور رائیونڈ کا ایک شہر اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننے کا خواہش مند ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :