وزیر خزانہ: قرضہ درست استعمال ہو تو معیشت کے لیے نقصان دہ نہیں
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ اگر قرضے کو صحیح اور منصوبہ بندی کے تحت استعمال کیا جائے تو یہ معیشت کے لیے نقصان دہ نہیں۔
انہوں نے عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے قرضے کی مجموعی شرح کو GDP کے مقابلے میں 75 فیصد سے کم کر کے 70 فیصد تک لایا ہے، اور شرح سود 22 فیصد سے کم ہو کر 10.
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے پرائمری سرپلس حاصل کر کے مالی توازن بحال کیا ہے، اور مہنگائی 38 فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈیجٹ میں آ گئی ہے۔ مزید کہا کہ پاکستان گرین پانڈا بانڈز کے ذریعے چینی مارکیٹ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہے۔
محمد اورنگزیب نے موسمیاتی تبدیلیوں پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے ایک بڑا اور مسلسل خطرہ ہے، تاہم حالیہ سیلاب کے دوران پاکستان نے اپنے وسائل سے حالات کا مقابلہ کیا اور عالمی اپیل کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ فنڈز کی کمی نہیں بلکہ مؤثر عملدرآمد اور صلاحیت سازی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ریکوڈک منصوبے سے 2028 کے بعد سالانہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات متوقع ہیں اور آئی ٹی اور فری لانسنگ کے شعبے میں پاکستان میں ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے مثبت اثر ڈالیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔