سندھ حکومت کے ترجمان اور رکن صوبائی اسمبلی نادر گبول نے دعویٰ کیا ہے کہ لیاری میں دو عالمی معیار کے فٹبال گراؤنڈ ہیں اور ککری گراؤنڈ قطر کے کسی اسٹڈیم سے کم نہیں ہے۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام پاور کاسٹ میں بیورو چیف فیصل حسین کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے نادر گبول نے کہا کہ لیاری کا ککری گراؤنڈ قطر کے کسی اسٹیڈیم سے کم نہیں بلکہ وہ ملٹی اسپورٹس کمپلیکس ہے جہاں جمناسٹک، کراٹے، باکسنگ سب سکھایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لیاری میں فٹبال ورلڈکپ ہونا چاہیے اور ہم اس کیلیے کوشش کریں گے اور میں وعدہ کرتا ہوں 2040 یا 2050 میں فیفا فٹبال ورلڈکپ لیاری میں کروانے کی پوری کوشش کریں گے۔

نادر گبول نے کہا کہ لیاری کے اسٹیڈیمز میں جدید سہولیات ہیں اور یہ عالمی معیار کے مطابق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیاری میں فٹبال ورلڈکپ کے انعقاد کا کام صرف پیپلزپارٹی اور بلاول بھٹو کرسکتے ہیں۔

ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ قطر میں 2022 کے ورلڈکپ کے دوران ہم نے لیاری کے دو گراؤنڈز میں اسکرینز لگوائیں تھیں، بیس بیس ہزار لوگ میچ دیکھنے آئے تھے اور دنیا بھر میں اس جذبے کو سراہا گیا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں نادر گبول نے کہا کہ بلاول بھٹو نے ہی شراب اور دیگر مشروبات پر پابندی عائد کی، ورلڈکپ کے دوران اس طرح کی چیزوں کی اجازت نہیں ہوگی کیونکہ ہمیں عوام کو جواب دینا ہے، اجازت سے عوام ناراض ہوسکتے ہیں اور یہ پیپلزپارٹی بالکل برداشت نہیں کرے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ لیاری نادر گبول نے لیاری میں

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن