کراچی کے سینیئر صحافی شہاب سلمان کو ماڈل کالونی پولیس نے اقدام قتل کے تحت درج مقدمہ میں حراست میں لے لیا۔

یہ بھی پڑھیں: صحافی خاور حسین کی موت، وجہ سامنے آ گئی

مدعی مقدمہ کے مطابق بدھ کی رات صحافی شہاب سلمان اپنے دوستوں کے ہمراہ  ایک ریسٹورنٹ میں چائے پینے کے لیے جمع ہوئے تھے جہاں شہاب سلمان اور 3 دیگر افراد نے پستول سے فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں مدعی کی ران میں گولی لگی۔

وزیر داخلہ سندھ نے گرفتاری کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی کورنگی سے تفصیلات طلب کر لیں۔

وزیر داخلہ لنجار نے اپنے بیان میں کہا کہ غیر جانبدری  کے ساتھ مام میڈیا تنظیموں کو اعتماد میں لیا جائے اور مکمل انکوائری کی جائے۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ میں اپنے صحافی برادری کو یقین دلاتا ہوں کہ پولیس تفتیش کے دوران میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔

وزیر داخلہ سندھ کی ہدایت پر ایس پی شاہ فیصل کالونی اور ایس پی انویسٹی گیشن کو انکوائری افسر نامزد کیا گیا ہے۔ انہوں سے حکم دیا ہے کہ دونوں افسران باہم اشتراک سے میرٹ پر انکوائری کو یقینی بنائیں۔

گرفتار صحافی کی اہلیہ کی درخواست کو بھی انکوائری کا حصہ بنائیں۔

مزید پڑھیے: حق کی شمع جلائے رکھنے والی صحافی زبیدہ مصطفیٰ نے بعد از مرگ بھی زندگیوں میں روشنی بھردی

شہاب سلمان کی اہلیہ نے ماڈل کالونی تھانے میں ایک درخواست جمع کرائی ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ کچھ عناصر ماڈل کالونی میں بس ٹرمینل کی زمین پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے زمین پر قبضے کو بے نقاب کیا تھا جس کی وجہ سے مدعی نے انہیں دھمکیاں دیں۔

شہاب سلمان کی اہلیہ نے اپنی درخواست میں الزام لگایا کہ بدھ کی رات 4 موٹر سائیکلوں پر سوار مشتبہ افراد ریستوران پہنچے اور میرے شوہر کو دھمکیاں دیں۔ شہاب سلمان  نے اپنا لائسنس یافتہ پستول نکالا اور اپنی جان بچانے کے لیے فائرنگ کی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے پولیس سے تحفظ مانگا تھا جو فراہم نہیں کیا گیا اور الزام لگایا کہ ملزمان کو سیاسی عناصر کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ملزمان نے ان کے شوہر کو پولیس کی تحویل میں تشدد کا نشانہ بنایا۔

دریں اثنا کراچی پریس کلب، کراچی یونین آف جرنلسٹ اور کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن نے اپنے علیحدہ بیانات میں شہاب سلمان کی گرفتاری پر مذمت کرتے ہوئے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں: پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں گرفتار صحافی فرحان ملک کی درخواست ضمانت مسترد

کراچی یونین آف جرنلسٹ (دستور) کے سیکریٹری ریحان چشتی کا کہنا ہے کہ ماڈل کالونی پولیس کی جانب سے سینیئر صحافی کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہیں اور انکی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چند روز سے کچھ عناصر خبریں چلانے پر شہاب سلمان کو دھمکیاں دے رہے تھے جبکہ گزشتہ شب انہی عناصر نے شہاب سلمان پر حملے کی کوشش کی جس پر شہاب نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی جس کے فوری بعد شہاب سلمان خود مدد کے لیے تھانے پہنچے لیکن پولیس نے ان کی مدد کرنے کے بجائے انہی کو گرفتار کر لیا۔

ریحان چشتی نے دعویٰ کیا کہ ماڈل کالونی تھانے کے اہلکاروں نے نہ صرف جرائم پیشہ افراد کی معاونت کرتے ہوئے شہاب سلمان کے خلاف ایف آئی آر کاٹ دی بلکہ شہاب سلمان کی اہلیہ کی جانب سے دی گئی درخواست کو بھی وصول کرنے سے انکار کردیا۔

کے یو جے دستور نے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کے اعلی حکام سے فوری مداخلت کرنے اور معاملے کی شفاف انکوائری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

شہاب سلمان صحافی گرفتار کراچی پریس کلب کراچی کے صحافی شہاب سلمان کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: شہاب سلمان صحافی گرفتار کراچی پریس کلب کراچی کے صحافی شہاب سلمان کراچی یونین ا ف جرنلسٹس دستور صحافی شہاب سلمان شہاب سلمان کی ماڈل کالونی کرتے ہوئے کی اہلیہ انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت

بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین کی جمعیت الوفاق الوطني الاسلامی نے خبردار کیا ہے کہ حکومت نے ایک ایسے اقدام کے ذریعے، جسے اس جماعت نے خطرناک اور جبری قرار دیا ہے، جعفری اوقاف ادارے کو تحلیل کرکے اسے ایک ایسے کونسل میں ضم کر دیا ہے جو سیاسی اقتدار کے زیرِ اثر کام کرتی ہے۔ جمعیت الوفاق کے مطابق یہ اقدام شرعی احکام میں مداخلت، آئین کی خلاف ورزی اور ملک میں مذہبی آزادیوں سے متعلق رائج اصولوں اور روایات پر حملہ ہے۔ الوفاق نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ کئی صدیوں کے دوران بحرین یا دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اس نوعیت کی مداخلت کی مثال نہیں ملتی۔ جماعت کے مطابق حکومت نے علاقائی حالات، کشیدگیوں اور جنگی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جعفری مکتبِ فکر کی مذہبی شخصیات، اداروں اور اوقافی املاک پر قبضے اور مداخلت کی راہ اختیار کی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ جمعیت الوفاق نے مزید کہا کہ یہ اقدامات شرعی ضوابط کی کھلی اور ناقابلِ قبول خلاف ورزی ہیں، اور انہیں ایسے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے جن کا مقصد شہریوں کو احتجاج اور مخالفت سے روکنا ہے۔ جمعیت کے مطابق حکومت نے ان غیر قانونی اقدامات کے لیے پہلے ہی ملک میں ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا جو غیر اعلانیہ ہنگامی حالت سے مشابہ تھا اور جس میں سکیورٹی دباؤ کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا گیا تھا۔ 

بیان میں کہا گیا کہ یہ سلسلہ سید محمد الموسوی کی مبینہ طور پر دورانِ حراست شہادت اور ان کے جسدِ خاکی کی حوالگی سے شروع ہوا، جس پر تشدد کے آثار نمایاں تھے۔ اس کے بعد بعض خاندانوں کی شہریت منسوخ کرنے، انہیں جبری ہجرت پر مجبور کرنے، مختلف علاقوں سے درجنوں علماء کی گرفتاری اور ان کی تصاویر کی تشہیر جیسے اقدامات سامنے آئے، جنہیں جمعیت نے انتقامی کارروائیاں قرار دیا۔ اسی طرح متعدد مساجد کو ائمہ جماعت سے محروم کرنے، دینی مدارس، حوزاتِ علمیہ اور مذہبی منبروں کی سرگرمیوں کو محدود یا معطل کرنے کا بھی ذکر کیا گیا۔

جمعیت الوفاق کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ پالیسی دراصل ملک کی دینی اور سماجی ساخت پر حملے، اداروں کی بندش، املاک کی ضبطی اور ان کے انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کرکے ایک "سکیورٹی اور جابرانہ نظم" نافذ کرنے کی تمہید ہے، جو فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم ہے اور شرعی، سماجی، قانونی و انسانی اصولوں کی کوئی پاسداری نہیں کرتا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ فرمان نمبر (31) برائے سال 2026 ایک سیاسی نوعیت کا جبری فیصلہ ہے جو عوامی رضامندی کے بغیر مسلط کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف بحرین کے ایک تاریخی اور اصیل ادارے کو نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ ایک ایسا زبردستی کا تغیر نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو صدیوں پر محیط بحران کو جنم دے سکتا ہے۔

جمعیت کے مطابق تاریخ اس اقدام کو بحرینی حکومت کی سب سے بڑی غلطیوں میں شمار کرے گی، کیونکہ یہ فطرت، دین، آزادی اور قانون کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ الوفاق نے زور دیا کہ یہ جبری فرمان ہزاروں اوقاف کی خیانت اور غصب کے مترادف ہے، جو مخصوص شرعی عناوین اور شرائط کے تحت وقف کیے گئے تھے اور جن میں سیاسی مداخلت یا ردوبدل کی کوئی گنجائش نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ وقف کا شرعی اور قانونی تشخص کسی حکومتی حکم یا فرمان سے تبدیل نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس سلسلے میں کیے گئے تمام اقدامات باطل اور شرعی و قانونی جواز سے محروم ہیں۔

جمعیت الوفاق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فرمان کو فوری طور پر واپس لے اور آمریت، ہٹ دھرمی اور ایسے منصوبے پر اصرار ترک کرے جو صرف طاقت، خوف اور شرعی احکام کی مخالفت کے سہارے ہی جاری رکھا جا سکتا ہے۔ جمعیت کا مزید کہنا تھا کہ شیعہ اور سنی اوقاف کو ایسے انتظامی ڈھانچے کے تحت لانے کی کوشش، جسے مذہبی حلقے قبول نہیں کرتے، اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے سیاسی نظام کو ازسرِ نو متعین کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ نظام شراکت داری، جوازِ حکمرانی اور قومی ہم آہنگی کی بنیادی خصوصیات سے محروم ہو چکا ہے۔ بیان کے اختتام پر جمعیت الوفاق نے ایک "نئے سماجی معاہدے" کی تشکیل کا مطالبہ کیا، جو عوامی اور قانونی بنیادوں پر استوار ہو، تمام شہریوں اور سماجی طبقات کے حقوق کی ضمانت دے اور ان کے مستقبل، شناخت اور آزادیوں کے حوالے سے اعتماد اور اطمینان کو مضبوط بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان