پاکستان اور بیلجیم نے اسلام آباد میں چوتھے دوطرفہ سیاسی مشاورتی اجلاس کا انعقاد کیا، جس کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنا اور خطے و عالمی سطح کے امور پر تبادلۂ خیال کرنا تھا۔

پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکریٹری یورپ، ایمبیسیڈر عائشہ علی نے کی، جبکہ بیلجیم کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل برگیٹ اسٹیونز سرکردہ رہیں۔

مزید پڑھیں: بیلجیم کے وزیراعظم پر ڈرون حملے کی سازش ناکام، 3 مشتبہ افراد گرفتار

فریقین نے دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیشرفت کو سراہا اور تجارتی، سرمایہ کاری، تعلیم، صحت کے شعبے اور عوامی روابط میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ایڈیشنل سیکریٹری یورپ نے بیلجیم کی جانب سے پاکستان کے جی ایس پی پلس تجارتی اسٹیٹس کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

اجلاس کے دوران خطے اور عالمی سطح کے اہم مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال بھی کیا گیا۔ بیلجیم کے وفد نے پاکستان کے سیکریٹری خارجہ سے بھی ملاقات کی اور باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات پر گفتگو کی۔

مزید پڑھیں: ’میرے پاس کالا کوٹ نہیں تھا‘

دونوں ممالک نے اتفاق کیا کہ رابطے برقرار رکھے جائیں گے اور اگلا اجلاس 2027 میں برسلز میں منعقد کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بیلجیم پاکستان دوطرفہ سیاسی مشاورت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بیلجیم پاکستان دوطرفہ سیاسی مشاورت

پڑھیں:

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔

کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔

کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔

حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔

 

متعلقہ مضامین

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے