امریکی آزادی کو منانے کے لیے ناظم الامور نیٹلی بیکر نے لبرٹی بیل مہم کا افتتاح کردیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
امریکی آزادی کو منانے کے لیے ناظم الامور نیٹلی بیکر نے لبرٹی بیل مہم کا افتتاح کردیا WhatsAppFacebookTwitter 0 22 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )پاکستان میں امریکی مشن کی جانب سے لیٹ فریڈم رِنگ کے عنوان سے لنکن کارنر اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریبِ رونمائی کے دوران فریڈم لبرٹی بیل انیشی ایٹو کا سرکاری طور پر افتتاح کیا گیا ۔ اس موقع پرناظم الامور نیٹلی بیکر نے مشہورزمانہ لبرٹی بیل کے اصل حجم کے موافق علامتی گھڑیال کی رونمائی کی جس کے ساتھ ہی امریکہ کے ویں یوم آزادی کا جشن منانے اور امریکہ کے قومی سفر اور عالمی اثر انگیزی میں امریکی سفارتکاری کے دیرپا کردار کو خراج تحسین پیش کرنے کی تقریبات کے سلسلہ کا آغاز ہوگیا۔
ریاست پینسلوینیا کے شہر فلاڈیلفیا میں واقع لبرٹی بیل امریکی آزادی اور جمہوریت کی سب سے پائیدار علامتوں میں سے ایک ہے۔ میں ڈھالا گیا یہ گھڑیال امریکی انقلاب میں اپنے تاریخی کردار کی وجہ سے نمایاں حیثیت کا حامل ہے ۔ امریکی تاریخ کے اہم سنگ میل عبور کرنے کے مختلف مواقع پر اس گھڑیال کو بجایا جاتا تھا، جس میں میں امریکہ کے آئین پر دستخط ہونا بھی شامل ہے۔ آج لبرٹی بیل آزادی، انصاف اور مساوات کے بنیادی امریکی نظریات کی یاد دلاتی ہے۔ تقریب میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے ناظم الامور نیٹلی بیکر نے لبرٹی بیل کی بطورقومی میراث اہمیت اورغلامی کے خاتمے سمیت تاریخ کے اہم لمحات کے ساتھ اس کے تعلق کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہاکہ لبرٹی بیل امریکی آزادی کی ایک نمایاں علامت ہے۔ اس موقع پر یہاں لنکن کارنر میں ہماری موجودگی اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ وہ مقام ہے جہاں پر ریاستہائے متحدہ امریکہ سے متعلق معلومات اورآزادی اظہارِ رائے سمیت امریکی اقدار کے حوالے سیتعلیم کو فروغ دیا جاتا ہے۔ ناظم الامور نے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کی مضبوطی میں فلاڈیلفیا سے ذاتی طور پر تعلق رکھنے والے امریکی سفارتکاروں کی خدمات کو بھی اجاگر کیا۔
لیٹ فریڈم بیل رِنگ کی مہم کے سلسلے میں آزادی گھڑیال سے مماثلت رکھنے والے پندرہ علامتی گھڑیال پاکستان بھر میں موجود لنکن کارنرز میں تقسیم کیے جائیں گے اورمقامی مصوروں اور رضاکار طالبعلموں کو مدعو کیا جائے گا کہ وہ میرے لیے آزادی کا کیا مطلب ہے کے عنوان سے لبرٹی بیل پر رنگ کریں۔ ان تخلیقی تشریحات کوجوآزادی کے وسیع ترنظریات کی عکاس ہوں گی ، آئندہ موسم گرما میں پاکستان میں امریکہ کے یومِ آزادی کے موقع پرمنعقد ہونے والی تقریبات میں نمائش کے لیے رکھا جائے گا۔پاکستانیوں کی آوازوں اور صلاحیتوں کو مزید اجاگر کرتے ہوئے امریکی سفارتخانہ ایک یادگار ویڈیو بھی شئیر کرے گا جس میں ان سجے ہوئے گھڑیالوں کو نمایاں کیا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، پیپلزپارٹی قانون سازی میں حکومت سے تعاون پر تیار پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، پیپلزپارٹی قانون سازی میں حکومت سے تعاون پر تیار اگر پی ٹی آئی 8فروری کو لوگ نہ نکال سکی تو 6 مہینے پیچھے چلی جائے گی، شیر افضل مروت پرتشدد مظاہروں کے دوران 3117افراد ہلاک ہوئے، ایران نے حیران کن اعدادوشمار جاری کردیئے پنجاب پولیس نے سی سی ڈی پر جعلی پولیس مقابلوں کے تمام الزامات مسترد کردیے لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں کر رہے،شرجیل میمن بورڈ آف پیس میں یورپ شامل نہ ہوا مگر شہباز شریف قاتل نتین یاہو کیساتھ مشاورت کرینگے، فضل الرحمانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ناظم الامور نیٹلی بیکر نے امریکی آزادی لبرٹی بیل کے لیے
پڑھیں:
امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان
امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔
’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔
اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔
مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں
امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔
دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔
مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔
امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔
یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘
1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔
تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو