جنوبی افریقہ کو بڑا دھچکا، 2 کھلاڑی ٹی20 ورلڈ کپ 2026 سے باہر
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
جنوبی افریقہ کی ٹیم کو آئی سی سی مینز ٹی20ورلڈ کپ 2026 سے قبل بڑا دھچکا لگ گیا ہے، جہاں بلے باز ٹونی ڈی زورزی اور ڈونوون فریرا کو انجری کے باعث اسکواڈ سے باہر کر دیا گیا ہے۔ دونوں کھلاڑی ویسٹ انڈیز کے خلاف آئندہ 3 میچوں کی ٹی20 سیریز میں بھی حصہ نہیں لے سکیں گے۔
کرکٹ جنوبی افریقہ کے مطابق، ٹونی ڈی زورزی دائیں ہیم اسٹرنگ کی انجری سے متوقع رفتار سے صحت یاب نہیں ہو سکے، جو انہیں گزشتہ ماہ بھارت کے خلاف ون ڈے سیریز کے دوران لاحق ہوئی تھی۔ مسلسل ری ہیب کی ضرورت کے باعث وہ بھارت اور سری لنکا میں ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کر پائیں گے۔
مزید پڑھیں:ورلڈ کپ 2023: جنوبی افریقہ نے افغانستان کو 5 وکٹ سے شکست دیدی
دوسری جانب، ڈونوون فریرا کو اس ماہ کے آغاز میں جنوبی افریقہ کے ایک ڈومیسٹک ٹی20 میچ کے دوران بائیں کندھے (کلاویکل) کی ہڈی میں فریکچر ہو گیا، جس کے بعد انہیں بھی اسکواڈ سے ڈراپ کر دیا گیا۔ ان دونوں کی جگہ ریان رِکلٹن اور ٹرِسٹن اسٹبز کو اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔
ادھر تجربہ کار بلے باز ڈیوڈ ملر کو بھی تشویش لاحق ہے، جو پیر کے روز ڈومیسٹک ٹی20 مقابلے میں مسل انجری کا شکار ہو گئے۔ وہ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز نہیں کھیلیں گے جبکہ ان کی ورلڈ کپ میں شرکت کا فیصلہ فٹنس ٹیسٹ کے بعد کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: انڈر 19 ورلڈ کپ: جنوبی افریقہ نے سب سے زیادہ اسکور کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا
اپ ڈیٹ شدہ جنوبی افریقی اسکواڈ میں ایڈن مارکرم (کپتان)، کوئنٹن ڈی کوک، کاگیسو ربادا، انریخ نورکیا، لونگی اینگیڈی اور دیگر نمایاں کھلاڑی شامل ہیں۔ جنوبی افریقہ، گروپ ڈی میں شامل ہے اور اپنی ٹی20 ورلڈ کپ مہم کا آغاز 9 فروری کو کینیڈا کے خلاف میچ سے کرے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
، کوئنٹن ڈی کوک، بڑا دھچکا، 2 کھلاڑی ٹی20 ورلڈ کپ 2026 جنوبی افریقہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کوئنٹن ڈی کوک بڑا دھچکا 2 کھلاڑی ٹی20 ورلڈ کپ 2026 جنوبی افریقہ جنوبی افریقہ ٹی20 ورلڈ کپ کے خلاف
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔