اداکارہ اور میزبان فضا علی سوشل میڈیا پر اپنی بیٹی کو نمایاں کرنے کے معاملے پر تنقید کی زد میں آ گئی ہیں۔ پاکستانی کلینیکل ماہرِ نفسیات اور سوشل میڈیا انفلوئنسر ماہین انوری نے اس حوالے سے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے فضا علی کے پیرنٹنگ انداز پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔
ماہین انوری کا کہنا ہے کہ والدین کی جانب سے کمسن بچوں کو سوشل میڈیا پر بار بار سامنے لانا ان کی ذہنی اور جذباتی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق توجہ، ویوز اور مقبولیت کی خاطر بچوں کو مواد کے طور پر استعمال کرنا ایک تشویش ناک رجحان بنتا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ فضا علی اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپنی روزمرہ زندگی کے لمحات کے ساتھ ساتھ اپنی دس سالہ بیٹی فرال فواد کی تصاویر اور ویڈیوز بھی باقاعدگی سے شیئر کرتی رہتی ہیں۔ حالیہ ویڈیو کے حوالے سے ماہین انوری نے لکھا کہ وہ یہ رجحان دیکھ کر شدید مایوسی محسوس کر رہی ہیں، خاص طور پر جب مائیں اپنی کم عمر بچیوں کو سوشل میڈیا کی توجہ کا مرکز بناتی ہیں۔
اپنی بات کو مزید واضح کرتے ہوئے ماہرِ نفسیات نے ایک پندرہ سالہ لڑکی کی مثال بھی دی جس کے مطابق وہ اپنی والدہ کے ایسے ہی رویے کے باعث ذہنی دباؤ اور مختلف نفسیاتی مسائل کا شکار ہے۔ ماہین انوری نے والدین سے اپیل کی کہ وہ بچوں کی معصومیت اور نجی زندگی کو سوشل میڈیا مواد بنانے سے گریز کریں۔
انہوں نے اپنے پیغام میں فضا علی کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ والدین کو یہ سوچنا چاہیے کہ اس طرح کی نمائش بچوں کی شخصیت اور ذہنی صحت پر کس حد تک گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ جہاں کئی صارفین نے بچوں کے تحفظ اور ذہنی صحت پر بات کرنے پر ماہین انوری کو سراہا، وہیں کچھ افراد اداکارہ فضا علی کے حق میں بھی سامنے آئے اور ان کے مؤقف کی حمایت کرتے نظر آئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ماہین انوری سوشل میڈیا فضا علی

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار