زرمبادلہ کے ذخائر میں معمولی بہتری، بینکوں کے ذخائر میں کمی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق سرکاری زرمبادلہ کے ذخائر میں حالیہ ہفتے کے دوران معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، تاہم کمرشل بینکوں کے ذخائر میں کمی دیکھی گئی ہے۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ ہفتہ وار اعداد و شمار کے مطابق ایک ہفتے میں سرکاری زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ ذخائر بڑھ کر 16 ارب 8 کروڑ 77 لاکھ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے۔
دوسری جانب کمرشل بینکوں کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر میں 61 لاکھ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد ان کے ذخائر گھٹ کر 5 ارب 17 کروڑ 5 لاکھ ڈالر رہ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے ذخائر میں کمی کے باوجود مجموعی ملکی زرمبادلہ ذخائر میں مجموعی طور پر 98 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے بعد پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر کا حجم 21 ارب 25 کروڑ 82 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگرچہ سرکاری ذخائر میں اضافہ ایک مثبت اشارہ ہے، تاہم کمرشل بینکوں کے ذخائر میں کمی آئندہ ہفتوں میں زرمبادلہ کی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بینکوں کے ذخائر میں کمی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمرشل بینکوں کے لاکھ ڈالر کے مطابق
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔