اسلام آباد: امریکی آزادی کی 250ویں سالگرہ، سفارتخانہ کے تحت لبرٹی بیل مہم
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
تصویر سوشل میڈیا۔
امریکی آزادی کی 250ویں سالگرہ منانے کیلئے اسلام آباد میں لبرٹی بیل مہم کا آغاز کیا گیا۔ امریکی سفارتخانہ کے مطابق امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے لِنکن کارنر اسلام آباد میں لبرٹی بیل انیشی ایٹو کا افتتاح کیا۔
امریکی سفارتخانہ کے مطابق لیٹ فریڈم رنگ کے عنوان سے فریڈم 250 لبرٹی بیل مہم کا باقاعدہ آغاز کیا۔
امریکی سفارتخانہ کے مطابق ناظم الامور نیٹلی بیکر کی جانب سے لبرٹی بیل کی اصل حجم کے مطابق علامتی نقل کی رونمائی کی۔ امریکی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے کا آغاز کیا گیا ہے۔
امریکی سفارتخانہ نے لبرٹی بیل امریکی آزادی اور جمہوریت کی تاریخی علامت قرار دیا۔
امریکی سفارتخانہ کے مطابق 1752 میں ڈھالا گیا لبرٹی بیل امریکی انقلاب کی اہم نشانی ہے، 1787 میں امریکی آئین پر دستخط کے موقع پر بھی لبرٹی بیل بجایا گیا۔ لبرٹی بیل آزادی، انصاف اور مساوات کی امریکی اقدار کی علامت ہے۔
سفارتخانہ کے مطابق نیٹلی بیکر نے غلامی کے خاتمے سمیت تاریخی لمحات سے لبرٹی بیل کے تعلق کو اجاگر کیا۔ لنکن کارنر آزادی اظہارِ رائے اور امریکی اقدار کے فروغ کا مرکز ہے۔
امریکی سفارتخانہ کے مطابق مہم کے تحت پاکستان بھر کے لنکن کارنرز میں 15 لبرٹی بیلز تقسیم کی جائیں گی، طلبا اور مقامی فنکار میرے لیے آزادی کا کیا مطلب ہے، کے موضوع پر لبرٹی بیلز رنگ کریں گے۔
امریکی سفارتخانہ کے مطابق تخلیقی لبرٹی بیلز کو موسم گرما میں یومِ آزادی امریکا کی تقریبات میں نمائش کیلئے رکھا جائے گا۔ سجائے گئے لبرٹی بیلز پر مشتمل خصوصی ویڈیو امریکی سفارتخانہ جاری کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: امریکی سفارتخانہ کے مطابق امریکی آزادی لبرٹی بیلز لبرٹی بیل
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔