data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے بیرون ملک سے درآمد ہونے والے پرانے اور استعمال شدہ برانڈڈ موبائل فونز کے لیے نئی کسٹمز ویلیوز مقرر کر دی ہیں۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کا مقصد ویلیو ایشن کے نظام کو مارکیٹ کی حقیقی قیمتوں کے قریب لانا اور غیر ضروری مالی بوجھ میں کمی کرنا بتایا جا رہا ہے۔ ایف بی آر کے ماتحت ادارے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن کراچی نے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق نئی کسٹمز ویلیوز صرف استعمال شدہ اور ری فربشڈ موبائل فونز پر لاگو ہوں گی جب کہ بالکل نئے موبائل فونز اس فیصلے سے متاثر نہیں ہوں گے۔ ڈائریکوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن کراچی کا کہنا ہے کہ جاری کردہ ویلیو ایشن پر نظر ثانی کے لیے نوٹیفکیشن کی تاریخ کے بعد 30 دن کے اندر پٹیشن دائر کی جا سکتی ہے، جو اسی ادارے کے پاس جمع کرائی جائے گی۔

نئی ویلیو ایشن کے نتیجے میں ان فونز پر عائد مجموعی پی ٹی اے ٹیکس میں نمایاں کمی متوقع ہے، جس سے پاکستانی مارکیٹ میں استعمال شدہ موبائل فونز کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔ اس فیصلے سے ایپل، سام سنگ، گوگل اور ون پلس سمیت متعدد عالمی اسمارٹ فون برانڈز کے فونز متاثر ہوں گے، جو پاکستان میں بڑی تعداد میں استعمال کیے جاتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق آئی فون 15 سیریز کی امریکی مارکیٹ میں لانچ قیمت 799 ڈالر تھی، تاہم اس وقت استعمال شدہ یا ری فربشڈ حالت میں یہ فون 300 سے 400 ڈالر کے درمیان دستیاب ہے۔ اوسطاً 350 ڈالر کی قیمت کو بنیاد بنایا جائے تو پاکستانی کرنسی میں اس کی قیمت تقریباً 97800 روپے بنتی ہے۔ اس قیمت پر آئی فون 15 پر پی ٹی اے ٹیکس قومی شناختی کارڈ کے ذریعے 34 ہزار 100 ایک روپے جب کہ پاسپورٹ کے ذریعے 31 ہزار 640 روپے مقرر کیا گیا ہے، جس کے بعد اس فون کی مجموعی لاگت تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار روپے سے زائد ہو سکتی ہے۔

اسی طرح آئی فون 15 پلس کی متوقع قیمت 370 ڈالر کے لگ بھگ بتائی گئی ہے، جو پاکستانی روپے میں تقریباً ایک لاکھ 3ہزار 465 روپے بنتی ہے۔ اس ماڈل پر پی ٹی اے ٹیکس شناختی کارڈ کے ذریعے 46 ہزار 68 روپے اور پاسپورٹ کے ذریعے 40 ہزار 448 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ آئی فون 15 پرو اور پرو میکس کے لیے بھی نئی ویلیوز کے مطابق ٹیکس کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں، جن کے باعث مجموعی قیمتیں پہلے کے مقابلے میں نسبتاً کم رہنے کا امکان ہے۔

ایف بی آر کے مطابق نئی کسٹمز ویلیوز کے نفاذ سے استعمال شدہ آئی فونز اور دیگر برانڈڈ موبائل فونز پاکستانی صارفین کے لیے زیادہ قابلِ رسائی ہو جائیں گے، جس سے مارکیٹ میں ان فونز کی طلب میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف صارفین کو فائدہ ہوگا بلکہ موبائل فون کی درآمدات کے شعبے میں شفافیت بھی بڑھے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: استعمال شدہ موبائل فونز موبائل فون آئی فون 15 اس فیصلے کے ذریعے کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ