ایف بی آر کا بڑا فیصلہ: استعمال شدہ موبائل فونز مزید سستے ہونے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے بیرون ملک سے درآمد ہونے والے پرانے اور استعمال شدہ برانڈڈ موبائل فونز کے لیے نئی کسٹمز ویلیوز مقرر کر دی ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کا مقصد ویلیو ایشن کے نظام کو مارکیٹ کی حقیقی قیمتوں کے قریب لانا اور غیر ضروری مالی بوجھ میں کمی کرنا بتایا جا رہا ہے۔ ایف بی آر کے ماتحت ادارے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن کراچی نے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق نئی کسٹمز ویلیوز صرف استعمال شدہ اور ری فربشڈ موبائل فونز پر لاگو ہوں گی جب کہ بالکل نئے موبائل فونز اس فیصلے سے متاثر نہیں ہوں گے۔ ڈائریکوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن کراچی کا کہنا ہے کہ جاری کردہ ویلیو ایشن پر نظر ثانی کے لیے نوٹیفکیشن کی تاریخ کے بعد 30 دن کے اندر پٹیشن دائر کی جا سکتی ہے، جو اسی ادارے کے پاس جمع کرائی جائے گی۔
نئی ویلیو ایشن کے نتیجے میں ان فونز پر عائد مجموعی پی ٹی اے ٹیکس میں نمایاں کمی متوقع ہے، جس سے پاکستانی مارکیٹ میں استعمال شدہ موبائل فونز کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔ اس فیصلے سے ایپل، سام سنگ، گوگل اور ون پلس سمیت متعدد عالمی اسمارٹ فون برانڈز کے فونز متاثر ہوں گے، جو پاکستان میں بڑی تعداد میں استعمال کیے جاتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق آئی فون 15 سیریز کی امریکی مارکیٹ میں لانچ قیمت 799 ڈالر تھی، تاہم اس وقت استعمال شدہ یا ری فربشڈ حالت میں یہ فون 300 سے 400 ڈالر کے درمیان دستیاب ہے۔ اوسطاً 350 ڈالر کی قیمت کو بنیاد بنایا جائے تو پاکستانی کرنسی میں اس کی قیمت تقریباً 97800 روپے بنتی ہے۔ اس قیمت پر آئی فون 15 پر پی ٹی اے ٹیکس قومی شناختی کارڈ کے ذریعے 34 ہزار 100 ایک روپے جب کہ پاسپورٹ کے ذریعے 31 ہزار 640 روپے مقرر کیا گیا ہے، جس کے بعد اس فون کی مجموعی لاگت تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار روپے سے زائد ہو سکتی ہے۔
اسی طرح آئی فون 15 پلس کی متوقع قیمت 370 ڈالر کے لگ بھگ بتائی گئی ہے، جو پاکستانی روپے میں تقریباً ایک لاکھ 3ہزار 465 روپے بنتی ہے۔ اس ماڈل پر پی ٹی اے ٹیکس شناختی کارڈ کے ذریعے 46 ہزار 68 روپے اور پاسپورٹ کے ذریعے 40 ہزار 448 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ آئی فون 15 پرو اور پرو میکس کے لیے بھی نئی ویلیوز کے مطابق ٹیکس کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں، جن کے باعث مجموعی قیمتیں پہلے کے مقابلے میں نسبتاً کم رہنے کا امکان ہے۔
ایف بی آر کے مطابق نئی کسٹمز ویلیوز کے نفاذ سے استعمال شدہ آئی فونز اور دیگر برانڈڈ موبائل فونز پاکستانی صارفین کے لیے زیادہ قابلِ رسائی ہو جائیں گے، جس سے مارکیٹ میں ان فونز کی طلب میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف صارفین کو فائدہ ہوگا بلکہ موبائل فون کی درآمدات کے شعبے میں شفافیت بھی بڑھے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: استعمال شدہ موبائل فونز موبائل فون آئی فون 15 اس فیصلے کے ذریعے کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔