عوام کے لیے خوشخبری، آسان اقساط پر بائیکس، رکشہ اور لوڈر سکیم پر عملدرآمد شروع
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس کی اسکیم پر عمل درآمد شروع ہوگیا، الیکٹرک بائیکس پر 80 ہزار روپے تک سبسڈی دی جا رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی الیکٹرک وہیکل ایڈاپشن اسکیم کے تحت الیکٹرک بائیکس، رکشے اور لوڈرز کے لیے سبسڈی کی ادائیگی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
اس اسکیم کے تحت رواں مالی سال تقریباً 9 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی جائے گی، جبکہ حکومت سال 2030 تک 100 ارب روپے سے زائد سبسڈی دینے کا ہدف رکھتی ہے۔
اسلام آباد: گھر میں گیس لیکج دھماکا، دیوار گرنے سے 5 افراد زخمی
پہلے مرحلے میں منظور شدہ درخواست گزاروں کو سبسڈی منتقل کر دی گئی ہے، اس فیز ون میں 41 ہزار الیکٹرک گاڑیوں پر سبسڈی دی جا رہی ہے، جن میں 40 ہزار الیکٹرک بائیکس اور ایک ہزار رکشے اور لوڈرز شامل ہیں،سبسڈی براہِ راست اسٹیٹ بینک کے ذریعے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جا رہی ہے۔
الیکٹرک بائیکس پر 80 ہزار روپے تک سبسڈی دی جا رہی ہے، اسکیم کے تحت بینک لیز اسکیم کے ذریعے الیکٹرک بائیکس اور رکشے آسان اقساط میں فراہم کیے جا رہے ہیں۔دوسرے مرحلے میں مزید 78 ہزار سے زیادہ الیکٹرک وہیکلز پر سبسڈی دینے کا منصوبہ ہے اور صرف رجسٹرڈ الیکٹرک گاڑیاں ہی سبسڈی کی اہل ہوں گی۔
ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء میں ریکارڈ اضافہ
حکام کا کہنا ہے کہ اسکیم کا مقصد سستی اور ماحول دوست سواری کو فروغ دینا اور ایندھن پر انحصار کم کرنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: الیکٹرک بائیکس جا رہی ہے اسکیم کے سبسڈی دی
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔