وزیراعظم کی منظور شدہ پی اے وی ای اسکیم پرعمل درآمد کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260122-08-18
اسلام آ باد (مانیٹر نگ ڈ یسک) وزیراعظم کی منظور شدہ پی اے وی ای اسکیم پرعمل درآمد کا آغاز ہوگیا ہے، الیکٹرک وہیکلز کی سبسڈی شروع ہوگئی ہے، حکومت نے ایکسیلیریٹڈ وہیکل الیکٹریفیکیشن اسکیم کے تحت سبسڈی اسکیم نافذ کردی ہے۔اس ضمن میں ای ڈی بی، اسٹیٹ بینک، نادرا، آئی ٹی بورڈ اور وزارت صنعت و پیداوار نیسبسڈی فراہمی پر مشترکہ سسٹم تشکیل دیدیا ہے۔انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے مطابق فنائنس اسکیم کے ذریعے درخواست گزاروں کو سبسڈی رقوم منتقل ہونا شروع ہوگئی، ای ڈی بی کے مطابق حکومت پانچ سال کے دوران 100ارب روپے سے زائد مالیت کی سبسڈی فراہم کرے گی۔منصوبے کے تحت سال 2030 تک مجموعی طور پر 100ارب 36 کروڑ روپے مالیت کی سبسڈی فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وزارت صنعت و پیداوار کے ماتحت ادارے انجنیرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کی جانب سے 41ہزار ای وی وہیکلز کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔حکام کے مطابق ای ڈی بی دوسرے مرحلے میں 78ہزار 170 الیکٹرک وہیکلز کو 8ارب 95 کروڑ روپے مالیت کی سبسڈی فراہم کرے گی۔ حکومتی سبسڈی کی مد میں 80 ہزار روپے کی رقم اسٹیٹ بینک براہ راست درخواست گزار کے اکاؤنٹ میں منتقل کرے گی۔ای ڈی بی کے مطابق وفاقی و صوبائی رجسٹریشن اتھارٹی سے منسلک ای وی وہیکلز کو ہی سبسڈی فراہم کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سبسڈی فراہم کی سبسڈی کے مطابق
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔