کے۔الیکٹرک کی بجلی چوری کے خلاف کارروائیاں جاری، نارتھ کراچی انڈسٹریل ایریا میں غیرقانونی نیٹ ورکس کا خاتمہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(رپورٹ: منیر عقیل انصاری) کے۔الیکٹرک نے بجلی چوری کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے نارتھ کراچی انڈسٹریل ایریا میں میٹر ٹیمپرنگ کے متعدد واقعات کی نشاندہی کی۔ کے۔الیکٹرک کے ڈیٹا مانیٹرنگ یونٹ کے مطابق بجلی چوری کے ان واقعات کے باعث سالانہ تقریباً 8 لاکھ یونٹس تک کی بجلی چوری کی جاسکتی تھی۔
گزشتہ تین ماہ کے دوران علاقے میں میٹر ٹیمپرنگ کے 10 کیسز سامنے آئے، جبکہ کے۔الیکٹرک کے نیٹ ورک سے 22 ہزار 400 کلوگرام غیرقانونی کنڈا کنکشنز بھی ہٹا دیے گئے۔ علاقے میں کنڈا ریموول ڈرائیوز کے دوران بجلی چوری کے نت نئے طریقے سامنے آئے۔ ایک موقع پر انٹرنیٹ باکس کے مشابہ کور میں چھپائی گئی کیبلز کے ذریعے بجلی چوری کی جا رہی تھی، جبکہ ایک اور کیس میں نکاسی آب کے نالے کے اندر سے گزرنے والا غیرقانونی زیرِ زمین کیبل نیٹ ورک دریافت ہوا۔
کے۔الیکٹرک کے ترجمان عمران رانا نے کہا کہ “شرپسند عناصر لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ صنعتی فیڈرز کا فائدہ اٹھا کر بڑی مقدار میں بجلی چوری کرتے ہیں۔ تاہم کے۔الیکٹرک غیرقانونی کنکشنز کے خاتمے اور علاقے کے لاس پروفائل میں بہتری کے لیے پرعزم ہے تاکہ صارفین کو قابلِ اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے صارفین سے درخواست کی ہے کہ وہ کے۔الیکٹرک کی جانب سے نصب شدہ قانونی اور میٹرڈ کنکشنز استعمال کریں اور بروقت بلوں کی ادائیگی کو یقینی بنائیں تاکہ بجلی کی مستحکم فراہمی برقرار رہے۔
کمیونٹی رہنماؤں اور رہائشیوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ بقایاجات کی ادائیگی میں تعاون کریں اور بجلی چوری کی اطلاع کے۔الیکٹرک کے ڈیجیٹل چینلز یا speakup@ke.
بجلی چوری میں کمی اور بروقت بلوں کی ادائیگی سے ریکوریز میں بہتری اور نقصانات میں کمی آتی ہے، جو کسی بھی علاقے میں لوڈشیڈنگ کم کرنے اور بجلی کی مستحکم فراہمی کے لیے اہم ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے الیکٹرک کے بجلی چوری کے
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔